تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 377
تاریخ احمدیت جلدا سفر علی گڑھ سفر علی گڑھ علی گڑھ میں ایک بزرگ سید محمد تفضل حسین صاحب تحصیلدار رہتے تھے۔جنہیں زمانہ " براہین احمدیہ " سے حضرت اقدس کے ساتھ عقیدت تھی۔وہ کئی مرتبہ حضرت اقدس کی خدمت میں علی گڑھ میں تشریف لانے کی درخواست کر چکے تھے۔جسے حضور نے قبول فرمایا۔اور آپ اپریل ۱۸۸۹ء میں لدھیانہ سے علی گڑھ تشریف لے گئے۔اس سفر میں حضور کے ہمراہ آپ کے خدام میں سے حضرت مولوی عبداللہ صاحب سنوری۔میر عباس علی صاحب اور حافظ حامد علی صاحب تھے حضرت اقدس سید محمد تفضل حسین صاحب تحصیلدار کے ہاں ٹھرے جو ان دنوں دفتر ضلع میں سپرنٹنڈنٹ تھے علی گڑھ میں ان دنوں ایک مولوی صاحب محمد اسمعیل نامی رہتے تھے انہوں نے حضرت اقدس کی خدمت میں نہایت انکسار سے رعظ کے لئے درخواست کی اور کہا کہ لوگ مدت سے آپ کے مشتاق ہیں بہتر ہے کہ سب لوگ ایک مکان میں جمع ہوں اور آپ کچھ دعظ فرما ئیں۔حضرت اقدس ضعف دماغ کے باعث جس کا قادیان میں بھی کچھ مدت پہلے دورہ ہو چکا تھا اس لائق نہیں تھے کہ زیادہ گفتگو اور کوئی دماغی محنت کا کام کر سکتے۔مگر چونکہ آپ کو ہمیشہ یہی عشق اور یہی دلی خواہش رہتی تھی کہ حق بات لوگوں پر ظاہر فرما ئیں کہ اسلام کیا چیز ہے اور اب لوگ اسے کیا سمجھ رہے ہیں اس لئے حضور نے لیکچر منظور فرمالیا۔کہ انشاء اللہ اسلام کی حقیقت بیان کی جائے گی چنانچہ اشتہار بھی شائع کر دیا گیا اور سب تیاری مکمل ہو گئی۔لیکچر کا وقت قریب آیا تو آپ الماما دو عظ سے روک دیئے گئے اور آپ نے لیکچر دینے کا ارادہ ترک کر دیا۔سید متفضل حسین صاحب نے عرض کیا کہ حضور اب تو سب کچھ ہو چکا ہے بڑی بدنامی ہو گی۔حضور نے فرمایا خواہ کچھ ہو ہم خدا کے حکم کے مطابق کریں گے۔پھر اور لوگوں نے بھی حضور سے بڑے اصرار سے عرض کیا۔مگر حضرت اقدس نے فرمایا۔یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ میں خدا کا حکم چھوڑ دوں۔اس کے حکم کے مقابل میں مجھے کسی ذلت کی پروا نہیں۔مولوی محمد اسمعیل صاحب نے اس معذرت کی آڑ لے کر جمعہ کے بعد حضرت اقدس کے خلاف نہایت زہریلی اور کذب و افتراء سے پر تقریر کی اور کہا میں نے ان سے کہا کہ کل جمعہ ہے وعظ فرمائیے اس کا انہوں نے وعدہ بھی کیا مگر صبح کو رقعہ آیا کہ میں بذریعہ الہام وعظ کرنے سے منع کیا گیا ہوں۔میرا خیال ہے کہ یہ سبب عجز بیانی و خوف امتحانی انکار کر دیا۔یہ شخص محض نالائق ہے علمی لیاقت نہیں رکھتا۔میں نے الہام کے بارے میں چند سوال کئے کسی قدر بے معنی جواب دے کر سکوت اختیار کیا۔ہر گز یقین نہیں ہو سکتا کہ ایسی عمدہ تصانیف کے یہی حضرت مصنف ہیں۔سید احمد صاحب عرب جن کو میں ثقہ جانتا