تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 19
تاریخ احمدیت جلدا 19 سلسلہ احمدیہ کا تعارف دعوت کو مختلف زبانوں میں پہنچایا ہے اور یہ سلسلہ اس قدر ترقی کر چکا ہے کہ آج ان کے مشن ایشیاء امریکہ و افریقہ میں قائم ہو چکے ہیں۔اور چونکہ ان کے پاس حقائق اسلام اور اس کے احکام کا ایک پیش بماذخیرہ موجود ہے اس لئے تاثیر اور فلاح کے لحاظ سے نصاری کی ترقی ان کے سامنے کچھ بھی حقیقت نہیں رکھتی۔جو شخص ان کے جلیل القدر کارناموں کو دیکھے گا وہ حیرت زدہ رہ جائے گا۔کہ کس طرح اس چھوٹے سے فرقے نے وہ کام کر دکھایا ہے جس کو کروڑوں مسلمان کرنے پر قادر نہیں ہو سکے۔(ترجمه) " بر صغیر ہند و پاکستان کے ایک مسلم لیڈر جناب محی الدین غازی لکھتے ہیں: یورپ و امریکہ کی مذہب سے بیزار اور اسلام کی حریف دنیا میں علم تبلیغ بلند کرنے کی کسی عالم دین یا کسی علمی ادارے کو توفیق نہیں ہوئی۔اگر علم تبلیغ ہاتھ میں لے کر اٹھا تو وہ یہی۔۔۔قادیانی فرقہ تھا کامل اس فرقہ زہاد سے اٹھا نہ کوئی کچھ ہوئے بھی تو یہی رند قدح خوار ہوئے اس جماعت نے تبلیغی مقاصد کے لئے پہلے اس سنگلاخ زمین کو چنا اور یورپ و امریکہ کا رخ کیا اور ان کے سامنے اسلام کو اصلی و سادہ صورت میں اور اس کے اصولوں کو ایسی قابل قبول شکل میں پیش کیا کہ ان ممالک کے ہزار ہا افراد و خاندان دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے اور يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللہ افوا جا کا سماں آنکھوں میں پھر گیا"۔افریقہ امریکہ اور یورپ میں تبلیغ اسلام کی یہ مم جتنی قوت سے جاری ہے۔اتنی قوت سے ایشیا کے تمام ممالک میں بھی جاری ہے۔اور ہر جگہ احمدیت اپنے حقیقی نصب العین کی طرف برق رفتاری سے بڑھتی جارہی ہے اور لادینیت پسپا ہوتی جارہی ہے۔اس ضمن میں پاکستان کے ایک نامور ادیب شیخ محمد اکرام صاحب کے تاثرات قابل مطالعہ ہیں۔آپ لکھتے ہیں: احمدی جماعت کے فروغ کی ایک وجہ ان کی تبلیغی کوششیں ہیں۔مرزا صاحب اور ان کے معتقدوں کا عقیدہ ہے کہ اب جہاد بالسیف کا زمانہ نہیں۔جہاد بالقلم کا زمانہ ہے ان کے عقیدہ سے عام مسلمانوں کو اختلاف ہے۔لیکن واقعہ یہ ہے کہ جہاد بالسیف کی اہلیت نہ احمدیوں میں ہے اور نہ عام مسلمانوں میں۔طاقت جلوه سینا نه تو داری و نه من عام مسلمان نہ تو جہاد بالسیف کے عقیدہ کا خیالی دم بھر کے نہ عملی جہاد کرتے ہیں نہ تبلیغی جہاد۔لیکن احمدی۔۔۔دوسرے جہاد یعنی تبلیغ کو فریضہ نہ ہی سمجھتے ہیں۔انہیں خاصی کامیابی حاصل ہوئی ہے "۔