تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 17
تاریخ احمدیت جلدا سلسلہ احمدیہ کا تعارف معمولی حالات میں ہوئی۔۱۸۹۰ء میں (حضرت) مرزا غلام احمد نامی ایک مصلح نے پنجاب میں قادیان کے مقام پر صاحب الہام ہونے کا دعویٰ کیا۔اور کہا کہ خدا تعالٰی نے نئے زمانہ کی ضرورت کے مطابق اسلامی تعلیمات کے نئے نئے معارف ان پر کھولے ہیں۔انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ ان کی بعثت کی خیربائیل اور قرآن دونوں میں موجود ہے۔انہوں نے مسیح اور مہدی ہونے کا بھی اعلان کیا اور اس کے ثبوت میں اس امر کو خاص طور پر دنیا کے سامنے رکھا کہ خودان میں اور مسیح میں خوبو اور اوصاف کے لحاظ سے مماثلت پائی جاتی ہے۔گو بعد میں انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ بلحاظ مرتبہ صبیح سے افضل ہیں۔ان کی تعلیم نرمی اور آزاد خیالی پر مبنی تھی۔انہوں نے تعلیم دی کہ اسلام جہاد کے ذریعہ نہیں بلکہ اپنی باطنی خوبیوں کے ذریعہ دنیا میں پھیلے گا اور تلوار نہیں بلکہ خالصتا تبلیغی جد و جہد اس کی اشاعت کا ذریعہ بنے گی"۔۱۹۰۸ء میں مرزا غلام احمد کی وفات کے بعد ان کے ماننے والے دو گروہوں میں بٹ گئے۔ان میں سے اصل گروہ جو ابتداء - معرض وجود میں آیا تھا قادیانی کہلاتا ہے اور ان کے دعوئی ماموریت پر ایمان رکھتا ہے۔علیحدہ ہونے والے گروہ نے جو اس خیال کا حامی نہیں تھا لاہور میں اشاعت اسلام کے نام سے ایک انجمن قائم کرلی ہے۔آج کل دونوں جماعتیں دنیا بھر میں تبلیغ اسلام کا فریضہ ادا کرنے میں مصروف ہیں۔قادیانی جماعت کا جس نے افریقہ کو خاص طور پر اپنی توجہ اور جدوجہد کا مرکز بنا رکھا ہے دعوئی ہے کہ وہ اب تک وہاں ساٹھ ہزار بتی باشندوں کو اسلام میں داخل کر چکی ہے۔دنیا میں جہاں کہیں بھی رنگ اور نسل کے بارے میں سفید نام اقوام کے تعصبات انسانی برادری سے متعلق مسیح کی تعلیم کو پس پشت ڈال کر اس کی تردید کرتے ہوئے نظر آتے ہیں وہاں اب (عیسائیت کی جگہ اسلام پھیل رہا ہے۔دین عیسوی اور دین موسوی کی طرح اسلام کا آغاز بھی بحیرہ روم کے جنوب مشرقی کونے میں سامی النسل لوگوں کے درمیان ہی ہو ا تھا۔چنانچہ یورو علم کی قدیم پہاڑی جو ساتویں صدی عیسوی کے زمانہ سے مسلمانوں کے لئے ایک متبرک عبادت گاہ کا درجہ رکھتی ہے عیسائیت کے نمودار ہونے سے قبل یہودیوں کے لئے بھی اسی طرح متبرک تھی اور وہ وہاں اپنے جانوروں کی قربانی دیتے تھے۔اگر چہ مسلمانوں نے خود اس غرض کے لئے اس جگہ کو کبھی استعمال نہیں کیا لیکن آج دنیا میں مسلمانوں کی آبادی مختلف رنگ اور نسل کے لوگوں پر مشتمل ہے اور اس کی ایک بھاری اکثریت سامی نسل کے علاوہ کلیتہ دوسرے نسلی گروہوں سے تعلق رکھتی ہے۔ان میں سے تین چوتھائی کے قریب ایشیا میں آباد ہے اور باقی کا اکثر حصہ افریقہ میں پھیلا ہوا ہے۔جہاں لاکھوں لاکھ حبشی باشندے جن کی تعداد وہاں