تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 321 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 321

تاریخ احمدیت جلدا ۳۲۰ حضرت اقدس کے جدی خاندان سے متعلق قهری نشان از خود نہیں کہا بلکہ خدائے تعالٰی نے الہام کے ذریعہ سے مجھ سے کہلوایا۔اور یہ میرے رب کا حکم تھا سو میں نے پورا کر دیا۔مجھے تیری اور تیری بیٹی کی کوئی ضرورت نہ تھی اور نہ مجھ پر کوئی تنگی ہے اور عورتیں تیری بیٹی کے علاوہ بہت ہیں۔اور اللہ تعالی صالحین کا والی ہے۔پس اگر مدت مقررہ گزر جائے اور سچائی ظاہر نہ ہو۔(یعنی تمہاری موت دکھ وغیرہ ظاہر نہ ہوں تو میری گردن میں رسی اور پاؤں میں بیڑیاں ڈالنا اور مجھے وہ دکھ دینا جو کسی کو نہ دیا گیا ہو تم نے خدا تعالیٰ سے نشان طلب کیا تھا۔پس یہ تمہارے لئے خدا کا نشان ہے۔پیشگوئی کا پبلک حیثیت اختیار کرنا اس مرحلے پر مرزا احمد بیک اور اس کے دست راست مرزا نظام الدین اور مرزا امام الدین وغیرہ کی مخالفت انتہا تک پہنچ گئی اور مرزا نظام الدین نے حضرت اقدس کا پہلا خط جو محض پر ائیو بٹ رنگ میں تھا عیسائیوں کے اخبار نور افشان (۱۰- مئی ۱۸۸۸ء) میں شائع کرا دیا جس سے اس پیشگوئی کو ایک پبلک حیثیت حاصل ہو گئی۔حالانکہ حضرت اقدس نے محض خط پر ہی اکتفاء فرمایا تھا اور آپ کو ان کی دل شکنی کے خیال سے اسے پبلک میں لانے کا خیال تک بھی نہیں تھا۔نور افشاں" کا طوفان بے تمیزی اس خط کا ہاتھ آنا تھا کہ عیسائیوں نے (جو اسلام اور حضرت اقدس کا جواب کے زندہ مذہب ہونے کے متعلق آپ کے چیلنج سے تنگ آکر کسی موقعہ کی تلاش میں تھے) اس کی آڑ میں آنحضرت ﷺ اور آپ کے خلاف ایک طوفان بے تمیزی برپا کر دیا۔خود ایڈیٹر اخبار نورافشاں نے اس پر عجیب طرح کی زبان درازی کی۔اور ایک صفحہ اخبار کا سخت گوئی اور دشنام دہی میں ہی سیاہ کیا۔اور تعدد ازدواج کو زنا اور حرامکاری قرار دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۱۰۔جولائی ۱۸۸۸ء کو اشتہار شائع فرمایا۔جس میں " نور افشاں " کی بد لگائی پر بائبل کی روشنی میں دندان شکن جواب دیئے اور پیشگوئی کا پس منظر بتاتے ہوئے لکھا کہ یہ پیش گوئی ایسی نہیں کہ جو پہلے پہل اسی وقت ظاہر کی گئی ہے بلکہ مرزا امام الدین، مرزا نظام الدین اور اس جگہ کے تمام آریہ اور نیز لیکھرام پشاوری اور صدہا دوسرے لوگ خوب جانتے ہیں کہ کئی سال ہوئے ہم نے اسی کے متعلق مجملاً ایک پیشگوئی کی تھی یعنی یہ کہ ہماری برادری میں سے ایک شخص احمد بیگ نام فوت ہونے والا ہے۔اب منصف مزاج آدمی سمجھ سکتا ہے کہ وہ پیشگوئی اس پیشگوئی کا ایک شعبہ تھی یا یوں کہو یہ تفصیل اور وہ اجمال تھی۔اور اس میں تاریخ اور مدت ظاہر کی گئی اور اس میں تاریخ اور مدت کا کچھ ذکر نہ تھا اور اس میں شرائط کی تصریح کی گئی اور وہ ابھی اجمالی حالت میں تھی۔سمجھدار آدمی کے لئے یہ کافی ہے کہ پہلی