تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 320
تاریخ احمدیت جلدا ۳۱۹ حضرت اقدس کے جدی خاندان سے متعلق قمری نشان مرزا احمد بیگ کی دختر محمدی بیگم سے متعلق خدائی تحریک یہ لوگ اسلامی تعلیم کے خلاف اور ہندو تہذیب کے زیر اثر یہ خیال کرتے تھے کہ کسی لڑکی کا اس کے غیر حقیقی یعنی رشتہ کے ماموں سے نکاح حرام ہے اور صاف کہتے تھے کہ ہمیں اسلام اور قرآن سے کچھ غرض نہیں۔نیز وہ آنحضرت ا سے اپنی پھوپھی زاد بہن زینب کے نکاح پر بھی سخت معترض تھے۔وہ خدا جس نے تبنیت کی رسم مٹانے کے لئے آنحضرت ﷺ کو یہ حکم دیا تھا کہ وہ زید کی مطلقہ بیوی کو اپنے نکاح میں لائیں۔اسی طرح یہ رسم مٹانے کے لئے کہ کسی لڑکی کا غیر حقیقی ماموں سے نکاح حرام ہے اس نے آنحضرت ا کے حقیقی خادم حضرت مرزا غلام احمد کو بھی یہ حکم دیا کہ آپ مرزا احمد بیگ سے اس کی بڑی لڑکی محمدی بیگم کے لئے سلسلہ جنبانی کریں اور اس سے کہہ دیں کہ تمام سلوک و مردت تم سے اس شرط پر کیا جائے گا۔اور یہ نکاح تمہارے لئے موجب برکت اور ایک رحمت کا نشان ہو گا اور ان تمام برکتوں اور رحمتوں سے حصہ پاؤ گے جو اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء میں درج ہیں۔لیکن اگر انحراف کیا۔تو اس کا دوسری جگہ نکاح نہ لڑکی کے لئے مبارک ثابت ہو گا نہ تمہارے لئے اور اگر تم باز نہیں آؤ گے تو کئی مصیبتیں تمہارے خاندان پر وارد ہوں گی اور آخری مصیبت تیری موت ثابت ہو گی تو نکاح کے تین سال کے اندر اندر مر جائے گا۔تو غافل ہے مگر تیری موت تیرے قریب ہی منڈلا رہی ہے اسی طرح تیری لڑکی کا خاوند بھی اڑھائی سال کے اندراندر لقمہ اجل بن جائے گا۔اور ان دونوں کی موت کے بعد ہم یہ لڑکی آپ کی طرف واپس لائیں گے۔رو سری شادی اپنے مخصوص حالات کی وجہ سے آپ کو ناگوار خاطر تھی۔اور آپ نے ابتداء ہی سے یہ عہد کر رکھا تھا کہ " کیساہی موقعہ پیش آوے جب تک اللہ کی طرف سے صریح حکم سے اس کے لئے مجبور نہ کیا جاؤں تب تک کنارہ کش رہوں کیونکہ تعدد ازدواج کے بوجھ اور مکروہات از حد زیادہ ہیں۔اور اس میں خرابیاں بہت ہیں اور وہی لوگ ان خرابیوں سے بچے رہتے ہیں جن کو اللہ جل شانہ اپنے ارادہ خاص سے اور اپنی کسی خاص مصلحت سے اور اپنے خاص اعلام و الہام سے اس بار گراں کے اٹھانے کے لئے مامور کرتا ہے۔تب اس میں بجائے مکروہات کے سراسر برکات ہوتے ہیں"۔لیکن اب جو یہ خدائی تحریک ہوئی تو حضور نے محض خدائی حکم کی تعمیل کے لئے مرزا احمد بیگ کو خط لکھا جس میں آپ نے الہی حکم پہنچاتے ہوئے لکھا کہ میں یہ مکتوب اپنی طرف سے نہیں بلکہ خدا تعالی کے حکم سے لکھ رہا ہوں اسے محفوظ رکھو کہ یہ صددق و امین خدا کی طرف سے ہے اللہ تعالیٰ شاہد ہے کہ میں اس بارہ میں سچا ہوں اور جو کچھ میں نے وعدہ کیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔اور میں نے