تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 319 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 319

تاریخ احمدیت۔جلدا ۳۱۸ حضرت اقدس کے جدی خاندان سے متعلق قبری نشان کا مذاق اڑائیں گے۔کہاں تک تیری کتاب کی تکذیب کریں گے اور تیرے نبی ا کو گالیاں دیتے رہیں گے۔اے ازلی ابدی اے مددگار خدا میں تیری رحمت کا واسطہ دے کر تیرے حضور فریاد کرتا ہوں"۔اللہ تعالٰی نے یہ گریہ وزاری سن کر آپ کو الہاما بتایا کہ میں نے ان کی بد کرداری اور سرکشی دیکھی ہے میں ان پر طرح طرح کی آفات ڈال کر انہیں آسمان کے نیچے سے نابود کر دونگا۔اور تم جلد دیکھو گے کہ میں ان کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہوں اور ہم ہر ایک بات پر قادر ہیں۔میں ان کی عورتیں بیوہ ان کے بچے یتیم اور ان کے گھرویران کر ڈالوں گا۔اور اس طرح وہ اپنی باتوں اور کارروائیوں کا مزہ چکھیں گے۔لیکن میں انہیں یکایک ہلاک نہیں کروں گا بلکہ تدریجا پکڑوں گا تا انہیں رجوع اور تو بہ کا موقعہ ملے۔میری لعنت ان پر ان کے گھروں پر ان کے چھوٹوں اور بڑوں پر ان کی عورتوں اور مردوں پر (بلکہ) ان کے گھر میں داخل ہونے والے مہمان پر بھی نازل ہوگی۔اور ان تمام پر لعنت بر سے گی اور صرف انہی لوگوں پر رحم کیا جائے گا جو ایمان لائیں۔مناسب حال عمل کریں۔ان سے تعلقات منقطع کرلیں۔اور ان کی مجالس سے کنارہ کش ہو جائیں"۔اس کے بعد سفر ہوشیار پور میں آپ کو محمدی بیگم کی نانی اور مرزا احمد بیگ کی خواشد امن کے متعلق الہام ہوا۔رَنَيْتُ هَذِهِ الْمَرْأَةَ وَاثَرَ الْبُكَاءِ عَلَى وَجْهِهَا فَقُلْتُ أَيَّتُهَا الْمَرْأَةُ تُوبِى تُو بِي فَانَّ الْبَلاء عَلى عَقِبِكِ وَالْمُصِيبَةُ نَازِلَةٌ عَلَيْكِ يَمُوتُ وَيَبْقَى مِنْهُ كِلَابُ مُتَعَدِدَةٌ۔أ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے خدا کا یہ انذاری پیغام اصولی رنگ میں اپنے رشتہ داروں تک پہنچا دیا۔لیکن وہ تو بہ کرنے کی بجائے اور زیادہ خود سری پر اتر آئے جس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بتایا گیا کہ ہم انہیں رلانے والے نشانات دکھا ئیں گے اور ان پر عجیب و غریب هموم و امراض نازل کریں گے۔ان کا عرصہ حیات تنگ کر دیں گے وہ پے در پے آفات کا نشانہ بنیں گے اور کوئی انہیں بچانے والا نہیں ہو گا۔چنانچہ ان کی تباہی کے موعودہ آثار شروع ہو گئے خدا تعالٰی نے مختلف غموں اور قرضوں کے بوجھ سے ان کی کمریں تو ڑ دیں۔موت فوت کے دروازے ان پر کھول دیے۔اور وہ قسم قسم کے مصائب میں گھر گئے یہ حالت دیکھ کر بھی یہ بد زبان باز نہ آئے۔بلکہ ان کے دلوں کی کجی میں اور بھی اضافہ ہو گیا۔اب آسمانی قضاء کے نزول کا وقت بالکل قریب آگیا اور بظا ہر کوئی حالت منتظرہ باقی نہیں تھی مگر خد اتعالیٰ نے جو محض ان کے رجوع اور توبہ کی غرض سے اپنے عذاب میں تاخیر فرمائی۔اس میں اپنی صفت رحیمیت کے تحت ایک آخری اور مشروط مگر عجیب صورت پیدا کر دی۔