تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 318 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 318

تاریخ احمدیت۔جلدا کی تصنیف ہے خدا کا الہام نہیں ہو سکتا۔۳۱۷ حضرت اقدس کے جدی خاندان سے متعلق تهری نشان ایک روح فرسا واقعہ یہ بد زبانیاں پورے زوروں پر تھیں کہ ایک شخص حضور کی خدمت میں روتا چلاتا پہنچا۔حضرت اقدس نے گبھرا کر پوچھا کہ کیا کسی فوت شدہ کی خبر آئی ہے ؟ اس نے کہا اس سے بھی بڑھ کر۔چنانچہ اس نے بتایا کہ میں ان عدوان دین کے پاس تھا کہ ان میں سے ایک بد بخت نے آنحضرت ﷺ کی شان مبارک میں وہ گندے الفاظ استعمال کئے کہ ایسے کلمات کسی کافر سے بھی نہیں سنے گئے۔یہی نہیں انہوں نے خدا تعالیٰ کی شان اقدس میں بھی قبیح الفاظ کے اور قرآن مجید کو نہایت بے دردی سے اپنے پاؤں تلے روند کر بے حرمتی کی۔حضرت اقدس نے اسے فرمایا کہ میں نے پہلے بھی ان کے پاس بیٹھنے سے منع کیا تھا۔پس خدا سے ڈرو اور توبہ کرو - پھر ان کی خدا نا ترسی کی انتہا یہ ہوئی کہ ان کی شوخی اور بد زبانی کا حلقہ نشان نمائی کا مطالبہ پرائیویٹ مجالس سے نکل کر پبلک کے اخبارات تک وسیع ہو گیا۔چنانچہ جیسا کہ اوپر ذکر آچکا ہے۔وہ حضرت اقدس کی دعوت نشان نمائی پر ہندوؤں کی پیٹھ ٹھونکتے ہوئے لیکھرام کو خود بلا کر قادیان لائے اور سخت فتنہ کھڑا کیا اور اگست ۱۸۸۸ء میں اخبار " چشمہ نور امرتسر" سے آپ کے خلاف ایک انتہائی دل آزار اور زہریلا خط بھی شائع کیا جس میں انہوں نے خدا کی ہستی کے ثبوت میں نہایت بے باکی کے ساتھ اپنے متعلق نشان کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم صرف اسی نشان کو نشان قرار دیں گے جو اللہ تعالیٰ ان کی ذات کے متعلق ظاہر کرے گا۔یہ خط چونکہ آنحضرت اور قرآن مجید کے خلاف گالیوں سے پر تھا۔اس لئے ہندستان کے غیر مسلموں بالخصوص عیسائیوں نے اسے خوب اچھالا اور ملک کے طول و عرض میں بڑے وسیع پیمانے پر اس کی اشاعت ہوئی۔حضرت مسیح موعود کی دعا اور الہی خبر اسلام کے خلاف اپنے رشتہ داروں کی یہ منتظم مخالفت دیکھ کر حضور کو شدید تکلیف پہنچی۔اشتہار کے ایک ایک لفظ سے شرارت ٹپکتی تھی۔اور مضمون اتنا گندہ تھا کہ آسمان پھٹ جاتا تو بعید نہ تھا اور جسے اسلام کا کوئی ادنی ہمدرد بھی پڑھتا تو قطعا برداشت نہ کر سکتا۔پھر آپ جو عظیم ترین عاشق رسول تھے وہ کیونکر برداشت کر سکتے۔چنانچہ جو نہی حضور نے یہ اشتہار دیکھا آپ کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو رواں ہو گئے۔آپ نے دروازہ بند کر لیا اور آہ و بکا کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ میں گر گئے اور یہ پر زور دعا کی کہ اے رب ! اے رب ! اپنے بندے کی نصرت فرما اور اپنے دشمنوں کو ذلیل و رسوا کر دے اے میرے رب میری التجا سن اور اسے قبول فرمایہ کب تک تیرا اور تیرے رسول