تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 317
تاریخ احمدیت۔جلد ۳۱ حضرت اقدس کے جدی خاندان سے متعلق قهری نشان اور پاک صداقتیں قرآن شریف میں نہ پائی گئیں۔ورنہ آپ کو اس غایت درجہ کی بے ادبی سے توبہ کرنی چاہیئے کہ جس کتاب کا نام اللہ جل شانہ نے جامع الکتاب اور نور مبین رکھا ہے آپ اس کتاب کو ناقص ٹھراتے ہیں " n اگلے سال ۳۰ ستمبر ۱۸۸۹ء کو حضرت اقدس نے ان کے نام ایک اور مکتوب میں بائیل کی قلعی کھولتے ہوئے لکھا۔"انجیل اور توریت کی حالت کی نسبت یہ آیت نہایت موزون معلوم ہوتی ہے۔وَاتْعُهُمَا اكْبَرُ مِنْ نَفْعِهِکا انہوں نے اپنی قوم کو جن کے ہاتھ میں صد ہا سال سے یہ کتابیں ہیں کیا فائدہ پہنچایا ہے۔جو آپ کو بھی پہنچا ئیں گی جن کے گندے اور غیر مہذب بیانات کے بڑے فاضل انگریز جان پورٹ ولا ئل وغیرہ جیسے قائل ہو گئے ہیں آپ نے ان میں کیا دیکھ لیا کہ آپ قائل نہیں ہوتے۔خداتعالی رحم کرے "۔حضرت اقدس کے ان زبر دست دلائل سے مولوی امام الدین صاحب دم بخود رہ گئے۔آریہ قوم پوری آپ کے جدی خاندان کی طرف مخالفین اسلام کی پشت پناہی بے حجابی سے ہے۔آنحضرت ا اسلام اور آپ کے خلاف دشنام طرازی اور گندہ دہنی کا مظاہرہ کر رہی تھی کہ عیسائی پادری سستی شہرت کی خاطر میدان مقابلہ میں اتر آئے۔حضور نے نشان نمائی کا جو چیلنج دے رکھا تھا چونکہ مسیحی دنیا اس کے جواب سے بالکل عاجز اور بے بس تھی۔اس لئے وہ آپ کے دعوی الہام و کلام پر تنقید کر کے اسلام کی سچائی مخدوش ثابت کرنے کے لئے کسی موزوں موقعہ کی تلاش میں تھی۔جو مئی ۱۸۸۸ء میں حضور کے نام نہاد خاندان نے پیدا کر دیا۔جیسا کہ اوپر اشارہ ذکر آچکا ہے کہ حضرت اقدس کے چازاد بھائی مرز انظام الدین امام الدین اور ان کے لگے بندھے احمد بیگ وغیرہ اسلام کے بدترین مخالف تھے۔اور رسول اللہ ﷺ کی شان اقدس میں گستاخانہ کلمات بلکہ گندی گالیوں کا استعمال ان لوگوں کا عام شیوہ ہو چکا تھا۔ہر نوع کی رسوم قبیحہ کے خوگر ، عقائد باطلہ کے عاشق اور بدعات شنیعہ میں مستغرق رہنے کو فخر محسوس کرتے تھے اور اسلام کے معاندین کی صف اول میں شامل تھے۔وہ خدا جس نے صنم کدوں سے کھجے کے پاسبان پیدا کر ڈالے اس نے اس زمانہ میں بھی کفر کے اس گہوارہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کھڑا کر دیا۔اور دیگر تمام مذاہب پر اسلام کو ابدی غلبہ بخشنے کے لئے آپ کو خلعت ماموریت سے سرفراز فرمایا۔جس پرید ظالم آتش زیر پا ہو کر آپ کے خلاف پوری قوت سے اٹھ کھڑے ہوئے۔اور نہ صرف آپ کو ایک مکار اور فریبی قرار دیا۔بلکہ یہاں تک کہا کہ ہم کسی کلام کرنے والے یا قضاء و قدر کے مالک اور وحی کنندہ خدا کو نہیں جانتے۔یہ محض ڈھونگ اور مکرو فریب ہے جو شروع سے چلا آیا ہے اور قرآن محمد )