تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 308 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 308

تاریخ احمدیت جلدا ۳۰۷ آریہ سماج کا طوفان بے تمیزی ہوں اور آپ سے اخلاص رکھتا ہوں۔اس مراسلہ پر حضور نے انہیں ۱۷- دسمبر ۱۸۸۶ء کو مکتوب لکھا اور پھر با قاعدہ خط و کتابت جاری ہو گئی جس کے نتیجہ میں مسٹر الیگزنڈر دب مسلمان ہو گئے۔اور یوں امریکہ کی تاریخ میں اسلام کی تبلیغ واشاعت کی پہلی مہم کا آغاز ہوا۔مسٹروب کے اسلام کا جب ہندوستان میں چرچا ہوا تو بیٹی کے متدین مسلمان اور میمن تاجر حاجی عبد اللہ صاحب اشاعت اسلام کے شوق میں ان کے پاس فیلا (فلپائن) پہنچے اور انہیں سفارت کے عہدے سے استعفیٰ دینے پر رضامند کر لیا۔اور خود واپس آکر ہندوستان کے مشہور مسلم مشنری حضرت مولوی حسن علی بھاگلپوری D کے ذریعہ سے حیدر آباد میں ایک بھاری جلسہ منعقد کر کے چھ ہزار کا چندہ کیا اور روب صاحب کو استعفیٰ دے کر ہندوستان بلوا بھیجا۔وہاں کیا دیر تھی فورا استعفاء دیا بمبئی سے اترے حیدر آباد آئے تو انہوں نے مولوی صاحب سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ حضرت مرزا صاحب میرے محسن ہیں اور انہی کے طفیل میں مسلمان ہوا ہوں اور ان کی زیارت کرنا چاہتا ہوں۔اس وقت چونکہ علماء پنجاب کی مخالفت اور عوام کی شورش شروع ہو چکی تھی اس لئے وب صاحب کو مولوی صاحب اور حاجی صاحب نے یہی رائے دی کہ ایک ایسے بد نام شخص " سے ملاقات کر کے اشاعت اسلام کے کام کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔چنانچہ اب صاحب لاہور تک آئے جہاں انہیں بعض لوگوں نے حضرت اقدس سے ملاقات کی ترغیب بھی دلائی مگروہ قادیان میں حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے بغیر ہندوستان کے مختلف شہروں کا دورہ کر کے امریکہ واپس پہنچے اور تبلیغ کا کام شروع کر دیا۔مگر تبلیغ اسلام تو مامور وقت کے روحانی فیض اور اطاعت کی بدولت ہی ممکن تھی۔محض مسلمانوں کی مالی اعانت کے بل بوتے پر اس کام میں کیا خیرو برکت ہوتی۔نتیجہ یہ ہوا کہ جن لوگوں نے اعانت کا وعدہ کیا تھا انہوں نے صریح بے رخی اختیار کرلی۔اور مسٹر وب اپنے مشن میں ناکام ہو گئے۔جس سے ان کے دل پر سخت چوٹ لگی اور حضرت اقدس کی یاد تازہ ہو گئی چنانچہ انہوں نے حضرت مفتی محمد صادق کے نام ایک خط میں حضرت اقدس کی زیارت سے محرومی پر نہایت ندامت اور شرمساری کا اظہار کرتے ہوئے لکھا۔جب میں ہندوستان گیا تو مجھے یقین تھا کہ مسلم بھائی میری مقدور بھر اعانت کریں گے لیکن جو نہی یہاں کے عیسائیوں کی مخالفت کی خبر ہندوستان پہنچی وہاں کے ” بے ایمان مسلمان " میرے مخالف ہو گئے۔اور ہر طرح مجھے تکلیف پہنچانی چاہی۔میرے ساتھ جو وعدے انہوں نے کئے تھے ان سب کو بھلا دیا۔لیکن اب میری سمجھ میں آیا ہے کہ ان لوگوں نے ایسا کیوں کیا۔در اصل بات یہ ہے کہ ان کا مذہبی علم صرف سطحی ہے اگر یہ لوگ میرے ساتھ وفاداری کا تعلق قائم رکھتے۔تو باوجو د میری کوششوں کے یہاں بھی اسلام کی ایک ایسی ہی بگڑی ہوئی شکل قائم ہو جاتی جیسی کہ ان لوگوں میں ہے۔تاہم یہ