تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 307 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 307

تاریخ احمدیت۔جلدا ہجرت کا ارادہ آریہ سماج کا طوفان بے تمیزی آریہ سماج کی اس شورش میں چونکہ قادیان کے بعض آریہ سماجی لیکھرام کی شہ پر در پردہ شامل ہو چکے تھے اس لئے حضرت اقدس نے قادیان سے کسی دور کے شہر کی طرف ہجرت کرنے کا قصد کر لیا چنانچہ آپ نے "شحنہ حق میں ہی لکھا ”ہمارا خدا ہر جگہ ہمارے ساتھ ہے۔حضرت مسیح علیہ السلام کا قول ہے کہ نبی بے عزت نہیں مگر اپنے وطن میں لیکن میں کہتا ہوں کہ نہ صرف بنی بلکہ بجزا اپنے وطن کے کوئی راستباز بھی دوسری جگہ ذلت نہیں اٹھاتا۔اور اللہ جل شانہ فرماتا ہے وَ مَنْ بُهَا جِرُ فِي سَبِيلِ اللهِ يَجِدْ فِى الْأَرْضِ مُوا لَمَا كَثِيرًا وَسَعَةٌ يعنی جو شخص اطاعت الہی میں اپنے وطن کو چھوڑے تو خدائے تعالی کی زمین میں ایسے آرام گاہ پائے گا جن میں بلا حرج دینی خدمت بجالا سکے۔سوائے ہم وطنوا ہم تمہیں عنقریب الوداع کہنے والے ہیں "۔اس فیصلے کے بعد جب آپ پر مسیح موعود ہونے کا انکشاف کیا گیا تو اگر چہ مخالفت نہایت درجہ منظم شکل اختیار کر گئی اور آپ کو ۱۸ ستمبر ۱۸۹۴ء میں "داغ ہجرت " کا الہام بھی ہو مگر عملاً ہجرت کی نوبت نہیں آئی اور یہ الہام خلافت ثانیہ میں پورا ہوا جب جماعت کے ایک حصے کو ۷ ۱۹۴ء کے ملکی فسادات کے باعث پاکستان میں چلا آنا پڑا۔امریکہ میں آپ کی دعوت نشان نمائی کی بازگشت۔مسٹر الیگزنڈر رسل وب سے خط و کتابت اور ان کا قبول اسلام ملک اور بالخصوص قادیان میں تو آپ پر یوں عرصہ حیات تنگ کیا جارہا تھا کہ آپ ہجرت پر آمادہ ہو چکے تھے۔مگر فرشتے امریکہ میں سعید روحوں کو آپ کی طرف کھینچ رہے تھے۔چنانچہ انہی فتنہ سامانیوں کے دوران ریاستہائے متحدہ امریکہ سے عیسائی گروہ کے ایک گر جا کے لاٹ پادری اور امریکہ کے مقبول عام روزنامہ ڈیلی گزٹ کے ایڈیٹر مسٹر الیگزنڈر رسل وب کا حضور کی خدمت میں خط موصول ہوا کہ میں نے اسکاٹ صاحب ہمہ اوستی کے اخبار کے ایک تازہ پرچہ میں آپ کا خط پڑھا جس میں آپ نے ان کو حق دکھانے کی دعوت دی ہے اس لئے مجھ کو اس تحریک کا شوق ہوا۔میں نے بدھ اور ہندومت کی بابت بہت کچھ پڑھا ہے اور کسی قدر زردشت اور کنفیوشس کی تعلیمات کا بھی مطالعہ کیا ہے لیکن محمد صاحب کی نسبت بہت کم۔۔۔میں راہ راست کی نسبت سخت متردد اور حق کا طلب گار