تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 301
تاریخ احمدیت۔جلدا ۳۰۰ ماسٹر مرلی دھر صاحب سے مباحث " سرمہ چشم آریہ" حضور نے پانچ سو روپیہ کا انعامی اشتہار بھی دیا۔اور لطف یہ کہ اس کے لئے منشی جیون راس صاحب سیکرٹری آریہ سماج کو ثالث تجویز فرما دیا کہ اگر وہ قسم کھا کر شہادت دے دیں کہ کتاب کا جواب دے دیا گیا ہے تو محض ان کی شہادت پر حضور یہ انعام دیدیں گے۔اس انعامی چیلنج پر آریہ سماج نے بالکل چپ سادھ لی۔لیکھرام نے نسخہ خبط احمدیہ" کے ذریعہ سے اس کے رد کی جو ناکام کوشش کی وہ اس قابل نہیں کہ اس کا ذکر کیا جائے۔سرمه چشم آریہ ایسی معرکہ الاراء کتاب کی اشاعت پر اہلحدیث عالم مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے اپنے رسالہ " اشاعۃ السنہ" میں ریویو کرتے ہوئے لکھا۔” یہ کتاب لاجواب مولف ” براہین احمدیہ " مرزا غلام احمد رئیس قادیان کی تصنیف ہے۔اس میں جناب مصنف کا ایک ممبر آریہ سماج سے مباحثہ شائع ہوا ہے جو معجزہ شق القمر اور تعلیم دید پر بمقام ہوشیار پور ہوا تھا اس مباحثہ میں جناب مصنف نے تاریخی واقعات اور عقلی وجوہات سے معجزہ شق القمر ثابت کیا ہے اور اس کے مقابلہ میں آریہ سماج کی کتاب (دید) اور اس کی تعلیمات و عقائد (تاریخ وغیرہ) کا کافی دلائل سے ابطال کیا ہے حمیت و حمایت اسلام تو اس میں ہے کہ ایک ایک مسلمان دس دس ہیں ہیں نسخہ خرید کر ہندو مسلمانوں میں تقسیم کرے۔اس میں ایک فائدہ تو یہ ہے کہ اصول اسلام کی خوبی اور اصول مذہب آریہ کی برائی زیادہ شیوع پائے گی اور اس سے آریہ سماج کی ان مخالفانہ کارروائیوں کو جو اسلام کے مقابلہ میں وہ کرتے ہیں روک ہوگی۔دو سرا فائدہ یہ ہے کہ اس کتاب کی قیمت سے دوسری تصانیف مرزا صاحب (سراج منیر و غیره) کے جلد چھپنے اور شائع ہونے کی ایک صورت پیدا ہوگی۔ہم نے سنا ہے کہ اس وقت تک سراج منیر کا طبع ہونا عدم موجودگی زر کے سبب معرض التوا میں ہے اور اس کے مصارف طبع کے لئے آمد قیمت سرمہ چشم آرید کا انتظار ہے۔یہ بات صحیح ہے تو مسلمانوں کی حالت پر کمال افسوس ہے کہ ایک شخص اسلام کی حمایت میں تمام جہان کے اہل مذہب سے مقابلہ کے لئے وقف اور خدا ہو رہا ہے پھر اہل اسلام کا اس کام کی مالی معاونت میں یہ حال ہے۔شاید ان خام خیالوں کو یہ خیال ہو گا کہ مرزا صاحب اپنے دس ہزار روپیہ کی جائیداد جس کو انہوں نے مخالفین اسلام کو مقابلہ پر انعام دینے کے لئے رکھا ہوا ہے فروخت کر کے صرف کرلیں تو پیچھے کو وہ ان کو مالی مدد دیں گے۔ان کا واقعی یہی خیال ہے تو ان کا حال اور بھی افسوس کے لائق ہے۔مشهور عیسائی اخبار نور افشاں (۶- جنوری ۱۸۸۷ء) نے سرمہ چشم آریہ" پر ان الفاظ میں تبصرہ لکھا۔کہ حقیقت تو یہ ہے کہ اس کتاب نے آریہ سماج کو پورے طور پر بے نقاب کرتے ہوئے اسے "