تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 300 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 300

تاریخ احمدیت۔جلدا ۲۹۹ ماسٹر مرلی د هر صاحب سے مباحثہ " سرمہ چشم آرید" آدھا حصہ تو کاغذ پر اور آدھا ان کے دل میں رہا۔بہر حال وہ اپنے جواب کو اس صورت میں چھوڑ کر اٹھ کھڑے ہوئے۔حضور نے ماسٹر صاحب سے اس مرحلہ پر یہ بھی فرمایا کہ اگر آپ اس وقت ٹھہرنا مصلح مناسب نہیں سمجھتے ہیں تو میں دو روز اور اس جگہ ہوں اور اپنا دن رات اسی خدمت میں صرف کر سکتا ہوں لیکن انہوں نے جواب دیا کہ مجھے فرصت نہیں۔اس جواب پر حضور کو سخت افسوس ہوا اور آپ نے فرمایا کہ آپ نے یہ اچھا نہیں کیا کہ جو کچھ معاہدہ ہو چکا تھا۔اسے تو ڑ دیا۔نہ آپ نے پورا جواب لکھا اور نہ ہمیں اب جواب الجواب لکھنے دیتے ہیں۔بہر کیف یہ جواب الجواب بھی مجبور ابطور خود تحریر کر کے رسالے کے ساتھ شامل کر دیا جائے گا۔یہ بات سنتے ہی ماسٹر صاحب اپنے رفقاء سمیت اٹھ کر چلے گئے اور حاضرین جلسہ پر صاف کھل گیا کہ ماسٹر صاحب کی یہ تمام تر کار روائی سر تا پا گریز اور کنارہ کشی کے لئے ایک بہانہ تھی۔اس نشست میں سامعین کی تعداد غیر معمولی طور پر زیادہ تھی۔صدہا مسلمان اور ہندو اپنا کام چھوڑ کر محض مباحثے کی کارروائی دیکھنے کے لئے جمع ہو گئے تھے۔اور صحن مکان حاضرین سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔جن میں شیخ مہر علی صاحب رئیس اعظم ہوشیار پور، ڈاکٹر مصطفی علی صاحب ، بابو احمد حسین صاحب ڈپٹی انسپکٹر پولیس ہو شیار پور مولوی اللی بخش صاحب وکیل ہوشیار پور میاں عبد اللہ صاحب حکیم، میاں شہاب الدین صاحب دفعدار لاله نرائن داس صاحب وکیل ، پنڈت جگن ناتھ صاحب وکیل لالہ کچن سنگھ صاحب ہیڈ ماسٹر لدھیانہ بابو ہرکشن داس صاحب سیکنڈ ماسٹر لالہ گنیش و اس صاحب وکیل، لاله سیتارام صاحب مہاجن میاں شترو گهن صاحب ، میاں شترنجی صاحب ، منشی گلاب سنگھ صاحب سررشتہ دار مولوی غلام رسول صاحب مدرس مولوی فتح دین صاحب مدرس خاص طور قابل ذکر ہیں۔"سرمه چشم آریہ " کی تصنیف و اشاعت حضرت اقدس نے یہ مباحثہ چند ماہ بعد ہی تمبر ۱۸۸۶ء میں "سرمہ چشم آریہ کے نام سے شائع فرما دیا۔جس میں آپ نے ستیارتھ پر کاش کا مطلوبہ حوالہ اور اس کے علاوہ وہ جوابات 12 بھی جو مباحثے میں نا تمام رہ گئے تھے اس خوبصورتی سے شامل کر دیے کہ کتاب کو ایک تاریخی شاہکار کی حیثیت حاصل ہو گئی۔حضور نے اس کتاب میں آریہ سماج پر زبردست تنقید کی اور معجزات و خوارق قرآنی عجائبات عالم ، روح کے خواص کشف قبور انسان کامل اور قانون قدرت جیسے اہم مسائل پر بھی بڑی لطیف روشنی ڈالی اور بالخصوص بتایا کہ خدائی قانون کا احاطہ جب کسی انسان کے لئے ممکن نہیں تو کسی معجزہ کو قانون قدرت کے منافی کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟ کتاب کا رد لکھنے والے کے لئے