تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 299 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 299

تاریخ احمدیت۔جلدا ۲۹۸ ماسٹر مرلی دھر صاحب سے مباحثہ " سرمہ چشم آریہ" دیں۔اسی لئے گھنٹہ سوا گھنٹہ تک یہی عذر پیش کرتے رہے کہ یہ سوال ایک نہیں دو ہیں۔حضور نے بتلایا کہ حقیقت میں سوال ایک ہی ہے یعنی خدا تعالٰی کی خالقیت سے انکار کرنا۔اور میعادی مکتی (نجات) تو اس خراب اصول کا ایک بد اثر ہے۔جو اس سے الگ نہیں ہو سکتا۔اس جہت سے سوال کے دونوں ٹکڑے حقیقت میں ایک ہی ہیں کیونکہ جو شخص خدا تعالی کی خالقیت سے منکر ہو گا اس کے لئے ممکن ہی نہیں کہ ہمیشہ کی نجات کا اقرار کر سکے۔سو انکار خالقیت اور انکار نجات جاودانی با ہم لازم ملزوم ہیں۔پس جو شخص یہ ثابت کرنا چاہے کہ خدا تعالٰی کے رب العالمین اور خالق نہ ہونے میں کوئی حرج نہیں۔اس کو یہ ثابت کرنا بھی لازم آجائے گا کہ خدا تعالی کے کامل بندوں کا ہمیشہ جنم مرن کے عذاب میں مبتلا رہنا اور کبھی دائمی نجات نہ پانا یہ بھی کچھ مضائقہ کی بات نہیں۔غرض بار بار سمجھانے کے بعد ماسٹر صاحب کچھ سمجھے اور جواب لکھنا شروع کیا۔اور تین گھنٹہ میں سوال کے ایک ٹکڑے کا جواب قلمبند کر کے سنایا اور دوسرے حصہ سوال کے متعلق جو مکتی کے بارے میں تھا یہ جواب دیا کہ اس کا جواب ہم اپنے مکان سے لکھ کر بھیج دیں گے۔حضور نے ایسا جواب لینے سے انکار کر کے فرمایا کہ آپ نے جو کچھ لکھنا ہے اسی جلسہ میں حاضرین کے روبرو تحریر کریں۔اگر گھر میں بیٹھ کر لکھنا تھا تو پھر اس مباحثہ کی ضرورت ہی کیا تھی ؟ مگر ماسٹر صاحب تو محض رفع الوقتی کے لئے آئے تھے وہ کیونکر مانتے۔حضور نے جب ان کی یہ ہٹ دھرمی دیکھی تو فرمایا جس قدر آپ نے لکھا ہے وہی ہمیں دے دیں تا اس کا ہم جواب الجواب لکھیں۔ماسٹر صاحب جو پہلی نشست میں جواب الجواب کے جواب سننے پر دہشت زدہ ہو گئے تھے۔اب جواب الجواب لکھنے پر بوکھلا گئے اور معذرت کی کہ اب ہماری سماج کا وقت ہے ہم بیٹھ نہیں سکتے۔ماسٹر صاحب نے ابتداء میں جب بہت سا وقت ادھر ادھر کی باتوں میں ضائع کر کے بہت آہستگی اور دھیما پن سے جواب لکھنا شروع کیا تھا تو حضرت اقدس اسی وقت سمجھ گئے کہ ان کی نیت بخیر نہیں اور اسی لئے حضور نے پہلے ان سے احتیاط یہ کہا تھا کہ بہتر یوں ہے کہ جو ورق آپ لکھتے جائیں وہ مجھے دیتے جائیں تا میں اس کا جواب الجواب بھی لکھتا جاؤں۔ماسٹر صاحب کے ایک ساتھی لالہ لچھمن صاحب نے حضرت اقدس کی بات سن کر کہا کہ میں آپ کی غرض سمجھ گیا لیکن ماسٹر صاحب ایسا کرنا نہیں چاہتے۔چنانچہ وہی بات ہوئی اور اخیر پر مباحثہ نا تمام چھوڑ کر انہوں نے سماج کا عذر کر دیا جو محض بہانہ تھا۔اصل موجب تو سراسیمگی اور گبھراہٹ تھی جو اعتراض سنتے ہی ان کے دل و دماغ پر چھا گئی اور وہ کچھ ایسے مبہوت ہو گئے کہ چہرے پر ہوائیاں چھوٹنے لگیں اور ناکارہ عذرات پیش کر کے یہ چاہا کہ جواب دیئے بغیر ہی اٹھ کر چلے جائیں۔یہی وجہ تھی کہ سامعین بھی مایوس ہو کر منتشر ہو گئے اور بعض یہ کہتے ہوئے اٹھ گئے کہ اب کیا بیٹھیں اب تو بحث ختم ہو گئی۔یہ رنگ دیکھا تو ماسٹر صاحب نے شرم و ندامت سے کچھ لکھا جس کا