تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 298 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 298

تاریخ احمدیت جلدا ۲۹۷ ماسٹر مرلی دھر صاحب سے مباحثہ " سرمه چشم آریہ " کے بڑے بیٹے میاں شترو گھمن صاحب نے جو اس مجلس میں موجود تھے کئی بار ماسٹر صاحب سے کہا کہ آپ جواب الجواب کا جواب لکھنے دیں ہم لوگ بخوشی بیٹھیں گے ہمیں کسی قسم کی تکلیف نہیں بلکہ ہمیں جواب سننے کا شوق ہے لیکن انہوں نے ایک نہ مانی۔آخر حضرت اقدس نے فرمایا یہ جواب تحریر ہونے سے رہ نہیں سکتا۔اگر آپ اس کو اس وقت ٹالنا چاہتے ہیں تو یہ رسالہ کے ساتھ شامل کیا جائیگا۔اس پر انہوں نے بادل ناخواستہ اس کا شامل رسالہ کیا جانا تسلیم کر لیا۔لیکن جواب کا اس مجلس میں تحریر ہو کر پیش ہو نا چونکہ ان کو ناگوار تھا اس لئے وہ اٹھ کر چل دیئے۔پہلی نشست کا تو یوں حشر ہوا اب دوسری نشست کی کیفیت سنئے۔اس دن حضرت اقدس کا حق تھا کہ پہلے اپنے اعتراض پیش فرماتے۔مگر ماسٹر صاحب نے وقت ضائع کرنے کے لئے پہلی نشست کی بحث سے متعلق ایک فضول جھگڑا شروع کر دیا۔اور یہ چند سطریں لکھ کر اور ان پر اپنے دستخط کر کے جلسہ عام میں ایک بڑے جوش سے کھڑے ہو کر بنائیں کہ "آج پہلے اس کے کہ میں کوئی سوال پیش کروں مرزا صاحب کی پہلے روز کی تقریر میں سے وہ حصہ جو انہوں نے فرمایا کہ ستیارتھ پر کاش میں لکھا ہے کہ روحیں اوس پر پھلتی ہیں اور عورتیں کھاتی ہیں تو آدمی پیدا ہوتے ہیں پیش کرتا ہوں۔یہ ستیار تھے پر کاش میں کسی جگہ نہیں۔اگر ہے تو ستیارتھ پر کاش میں دیتا ہوں اس میں سے نکال کر دکھلا دیں تا کہ سچ اور جھوٹ کی ترقی لوگ کر لیں۔اس کے جواب میں حضور نے کہا کہ پہلے روز کی تقریر اسی روز کے ساتھ ختم ہو گئی۔آپ کو چاہئے تھا کہ اسی دن یہ مطالبہ پیش کرتے مگر ماسٹر صاحب سراسر مجادلہ کی راہ سے مصر پتھے کہ جب تک اس امر کا تصفیہ نہ ہولے دوسری گفتگو نہیں کر سکتے۔اس پر مولوی الہی بخش صاحب وکیل نے بھی انہیں بہت سمجھایا کہ اس موقعہ پر گذشتہ قصوں کو لے بیٹھنا بے جا ہے آج کے دن آج ہی کی بحث ہونی چاہیے۔آخر جب کافی رد و قدح ہو چکی تو حضرت اقدس نے قضیہ ختم کر کے اصل موضوع کی طرف لانے کے لئے یہ تحریر لکھ دی کہ جب ہم یہ بحث شائع کریں گے تو اس مقام پر ستیارتھ پر کاش کا حوالہ بھی لکھ دیں گے اس حکمت عملی سے یہ جھگڑا رفع دفع ہوا۔اور اصل کار روائی شروع ہوئی۔چنانچہ اس کے بعد حضور کی طرف سے آریہ سماج کے اس اصول کے متعلق تحریزی اعتراض پیش ہوا کہ آریہ سماج کا یہ عقیدہ کہ پر میٹر نے کوئی روح پیدا نہیں کی اور نہ وہ کسی کو خواہ کوئی کیسا ہی راست باز اور سچا پر ستار ہو ابدی نجات بخشے گا۔خدا تعالیٰ کی توحید اور رحمت دونوں کے صریح منافی ہے جب یہ زبردست اعتراض جلسہ عام میں سنایا گیا تو ماسٹر صاحب پر ایک عجیب حالت طاری ہوئی جس کی کیفت ماسٹر صاحب ہی کا جی جانتا ہو گا۔انہیں اس وقت کچھ بھی نہیں سوجھتا تھا کہ اس کا کیا جواب