تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 297
تاریخ احمد بیت - جلدا ۲۹ ماسٹر مرلی دھر صاحب سے مباحثہ " سرمہ چشم آریہ " ماسٹر مرلی دھر صاحب سے مباحثہ اور سرمہ چشم آریہ" کی تصنیف و اشاعت سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سفر ہوشیار پور میں چلہ کشی اور پینگوئی " پسر موعود" کے بعد دوسرا اہم واقعہ مباحثہ مرلی دھر ہے۔ماسٹر مرلی دھر صاحب جو آرید ماسٹر مرلی دھر صاحب آف ہو شیار پور سے مباحثہ سماج ہوشیار پور کے ایک متناز رکن تھے) حضرت اقدس کی خدمت میں آئے اور درخواست کی کہ وہ اسلامی تعلیمات پر چند سوالات پیش کرنا چاہتے ہیں۔خدا کا پہلوان تو مدت سے للکار رہا تھا کہ کوئی آریہ سماجی لیڈر مرد میدان ہے۔چنانچہ اب جو خود آریہ سماج کی طرف سے ایک تحریری مذہبی مباحثہ کی طرح ڈالی گئی تو حضور نے اسے بسر و چشم قبول فرمالیا۔اور اس دینی مذاکرہ کو غیر جانبدارانہ سطح پر لے جانے کے لئے یہ تجویز کی کہ ماسٹر صاحب ایک نشست میں اسلام پر اعتراضات کریں اور آپ ان کے جوابات دیں۔اور دوسری نشست میں حضور آریہ سماج کے مسلمات پر سوال کریں گے اور ماسٹر صاحب ان کا جواب دیں گے۔ماسٹر صاحب نے اس تجویز سے اتفاق ظاہر کیا۔بحث کے لئے حضرت اقدس کی فرودگاہ تجویز ہوئی۔اور مباحثہ کی دو نشستوں کے لئے گیارہ مارچ کی شب اور چودہ مارچ کا دن قرار پایا۔اور دونوں بحثوں سے متعلق یہ بات بھی طے ہوئی کہ بحث کا خاتمہ جواب الجواب کے جواب سے ہو۔اس سے پہلے نہ ہو چنانچہ گیارہ مارچ ۱۸۸۶ء کی پہلی نشست میں ماسٹر صاحب اسلام پر چھ سوالات کرنے کی تیاری کر کے آئے تھے اور اس کا اظہار بھی انہوں نے کیا مگر ابھی انہوں نے معجزہ شق القمر کے متعلق ہی اپنا پہلا مایہ ناز اعتراض پیش کیا تھا کہ ان کی علمیت کا سارا بھرم کھل گیا اور وہ اپنی ناکامی کا داغ مٹانے کے لئے عین اس وقت جب کہ حضور کی طرف سے جواب الجواب کے جواب کا وقت آیا تو معاہدہ کے خلاف محض رات کی طوالت کے بہانے سے جانے کا قصد کرنے لگے۔اکثر ہندو حاضرین بالخصوص والی ریاست سوکیت