تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page iii
لس الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم دیباچه تاریخ احمدیت کی تدوین کا آغاز سید نا واما منا حضرت مصلح موعودؓ کی خصوصی تحریک اور روحانی توجہ کی بدولت جون 1953 ء میں ہوا۔اور ادارۃ المصنفین کی کوشش سے اس کی پہلی جلد دسمبر 1958ء میں اور دوسری 1959 ء میں منظر عام پر آئی۔اس وقت تک اس کی انہیں جلدیں شائع ہو چکی میں جو ابتدا اسے لے کر 1957 تک کے حالات پر مشتمل ہیں۔سید نا حضرت خلیفہ مسیح الرابع ایدہ اللہ تعلی بنصرہ العزیز کے ارشاد مبارک پر اس کی مطبوعہ جلدوں کو سیٹ کی صورت میں شائع کیا جا رہا ہے۔موجودہ جلد جو سابقہ ابتدائی دوجلدوں پر مشتمل ہے اس سکیم کی پہلی کڑی ہے۔موجودہ ایڈیشن کی بعض خصوصیات یہ ہیں۔(1) نئی تحقیقات کی روشنی میں اس کے متن اور حواشی میں مفید اضافے کئے گئے ہیں۔(2) حواشی فٹ نوٹ کی بجائے باب یا فصل کے آخر میں دیئے گئے ہیں۔(3) کتاب کے آخر میں مفصل اشاریہ بھی شامل اشاعت کیا گیا ہے۔سید نا حضرت مصلح موعود نے ابتداء ہی سے یہ ہدایت فرمائی تھی کہ جو نبی کوئی جلد شائع ہو قارئین کی قیمتی آراء اور مشوروں کے بارے میں فائل کھول دی جائے۔یہ مفید سلسلہ شعبہ تاریخ کی طرف سے پورے التزام کے ساتھ جاری ہے۔اور زیر نظر جلد پر نظر ثانی کرتے ہوئے اس کو خاص طور پر مد نظر رکھا گیا ہے۔حديث نبوى من لم يشكر الناس لم يشكر الله۔( جامع الصغیر للسیوطی) کے مطابق یہ تذکرہ ضروری ہے کہ مولانا ریاض محمود باجوہ صاحب مربی سلسله ( شعبه تاریخ احمدیت ) اور مولانا نعمت اللہ بشارت صاحب ( سابق مربی ڈنمارک) نے کتاب کی پروف ریڈنگ اور اشاریہ تیار کرنے میں نہایت درجہ محنت اور عرقریزی سے کام کیا ہے۔اس طرح مکرم چوہدری محمد صدیق صاحب سابق انچارج خلافت لائبریری ربوہ اور جناب حبیب الرحمن صاحب زیروی انچارج خلافت لائبریری اور ان کے جملہ معاونین کا گراں قدر تعاون بھی باعث تشکر و امتنان ہے۔اللہ تعالیٰ ان سب کو اپنی برکات کے عطر سے ممسوح کرے۔آمین۔خدا کے فضل و کرم اور اس کی دی ہوئی توفیق سے شعبہ تاریخ 1983 ء کی وقائع نگاری کے مرحلہ میں داخل ہو گیا ہے۔احباب دعا کریں کہ شعبہ تاریخ جلد از جلد سلسلہ کی سوسالہ تاریخ کی تدوین اور اشاعت کی توفیق پاسکے۔اور یہ کتاب ہر اعتبار سے بابرکت ثابت ہو۔وما توفيقنا الا بالله العلى العظيم - ناشر