تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 272 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 272

تاریخ احمدیت جلدا ۲۷۱ نشان نمائی کی عالمگیر دعوت تبلیغ رسالت " جلد اول صفحه ۱۱-۲۱ حواشی "سیرت المهدی " حصہ دوم صفحه ۱۳-۱۴ مکتوبات بنام مولوی عبد اللہ سنوری صفحه ۳-۴۰ طبع اول بیرونی دنیا میں اس کے اثرات ۱۸۸۷ء میں ظاہر ہونے شروع ہوئے۔جب مسٹر ا لگزنڈر سل وب نے امریکہ سے خط و کتابت شروع کی۔اور بالاخر حلقہ بگوش اسلام ہو گئے جیسا کہ آئندہ ذکر آرہا ہے۔روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد پنجم صفحه ۸۴ ۵ ولادت اے ۱۸ ء وفات ۱۹۱۱ء ( تذکرہ روسائے پنجاب طبع دوم ۶۸۴) ۳۱۳ اصحاب میں تھے ان کی صاحبزادی خواجہ کمال الدین صاحب بانی اور کنگ مشن کے عقد میں آئیں۔- حضرت میخ چاک کے مشہور صحابی حضرت قریشی محمد حسین صاحب (وفات ۱۷ اپریل ۱۹۳۲ء) موجد مفرح شہری لاہور کے دادا جو پہلے اہلحدیث تھے مگر آخر عمر میں مولوی عبد اللہ صاحب چکڑالوی کے ہم خیال بلکہ دست راست بن گئے۔۰۸ محترم مولف صاحب "مجدد اعظم" نے مٹی اندر من مراد آبادی کے متعلق سو ا لکھا ہے کہ اس نے "سرمہ چشم آریہ" کی اشاعت پر مقابلہ کی ٹھرائی مگر انعام پہلے مانگا کہ کسی کے پاس رکھوا دیا جائے۔جب مرزا صاحب کے آدمی زیر انعام لے کر پہنچے تو اندر من لاہور چھوڑ کر ہی بھاگ گیا ( مجدد اعظم جلد اول صفحه ۱۷۰) یہ واقعہ پیش ضرور آیا۔مگر "سرمہ چشم آریہ" کے انعامی اشتہار سے قبل نہ کہ بعد - جیسا کہ ۱۰ مئی ۱۸۸۵ء کے اشتہار بلکہ سرمہ چشم آریہ " سے ملحق اشتہار " صداقت انوار " سے بھی ظاہر ہے۔(دیکھئے صفحہ ۲۵۹ طبع اول) - تبلیغ رسالت " جلد اول صفحه ۴۸- -- - " مکتوبات احمدیہ جلد اول صفحه ۹۱-۹۳ و جلد دوم صفحه ۶-۱۰- حیات احمد جلد دوم نمبر سوم صفحه ۱۲۰-۱۲۳ -[• -11 الم اخبار "عام " بحوالہ الحکم ۲۴- اگست ۱۸۹۹ء صفحه ۸ کالم نمبر ۳- کلیات آریہ مسافر صفحه ۴۰۸-۲۱۴ طبع اول شائع کردہ ستیہ دھرم پر چارک پریس ہردوار ضلع سہارنپور - ايضا مرزا امام الدین کے الحادو دہریت کا اندازہ اس سے لگ سکتا ہے کہ اس کی مجلس میں بھنگ اور چرس پینے والے جمع ہوتے جو اباحتی فقیروں کی طرح شریعت پر لغو اعتراضات کی بوچھاڑ کیا کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود کے دعوی کا چرچا دیکھ کر اس نے اپنے تئیں چماروں کا ہادی قرار دے لیا اور ایسی ایسی نا گفتنی باتیں کہیں کہ خدا کا کوئی پاک باز نبی اس کی تضحیک سے محفوظ نہ رہا۔مثلاً کہا۔ایک پیغمبر دو سرے پیغمبر کو جھٹلاتا اور منسوخ کرتا ہے اگر میٹی صاحب کو سچا جا ئیں تو محمد ال صاحب کی غلطی معلوم ہوتی ہے اور اگر محمد صاحب کو راستی پر سمجھیں تو عینی صاحب کا اعتبار جاتا ہے"۔(ملاحظہ ہو اس کی کتاب "گل شگفت " صفحہ ۱۷ مطبوع چشمه نور) "آئینہ کمالات اسلام "صفحه ۲۸۵ و "کلیات آرید مسافر صفحه ۳۱۴-۳۱۵مه ۱۵ لیکھرام کے ایک خط سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ غالنیا 19 نومبر ۱۸۸۵ء کو قادیان آیا تھا۔بحوالہ "حیات احمد " جلد دوم نمبر دوم صفحہ -10 ۴۰ مرتبہ شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی حقیقته الوحی طبع اول صفحہ ۲۸۸ حیات احمد جلد دوم نمبر دوم صفحه ۴۰-۴۱) مرتبہ حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی) "حقیقته الوحی طبع اول صفحہ ۲۸۸ و "کلیات آرید مسافر - صفحه ۴۱۵ ۱۹ نقل مطابق اصل ۲۰۔حیات احمد " جلد دوم صفحه ۴۲ - ۴۳- مرتبہ حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی۔