تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 265
نشان نمائی کی عالمگیر دعوت تاریخ احمدیت۔جلدا لئے حضور نے نہایت درجہ مسرت کا اظہار کرتے ہوئے اسے بلا تامل قبول فرمالیا اور ایک با قاعدہ تحریری معاہدہ کی شکل میں شرمپت رائے ممبر آریہ سماج قادیان نے اسے شائع بھی کر دیا اور ستمبر ۱۸۸۵ء سے ستمبر ۱۸۸۶ء تک اس کی میعاد قرار پائی۔خدا تعالیٰ کی قدرت ابھی میعاد شروع بھی نہ ہوئی تھی کہ ۵- اگست ۱۸۸۵ء کو آپ پر الهاما منکشف ہوا کہ آج سے اکتیس ماہ تک مرزا امام الدین اور نظام الدین جو اس وقت آپ کی مخالفت میں اہم حصہ لے رہے تھے ) ایک بڑی مصیبت میں مبتلا ہوں گے۔یعنی ان کے اہل و عیال میں سے کسی مرد یا عورت کا انتقال ہو جائے گا۔جس سے انہیں سخت تکلیف پہنچے گی۔حضرت اقدس نے یہ خبر پاتے ہی اس پر معاہدہ میں شامل چار ہندوؤں کے دستخط کرالئے۔چنانچہ ٹھیک اکتیسویں مہینے (یعنی فروری ۱۸۸۸ء میں) مرزا نظام دین کی بیٹی اور مرزا امام الدین کی بھتیجی ایک چھوٹا بچہ چھوڑ کر فوت ہو گئی اور خدا کی بات پوری آب و تاب سے پوری ہوئی مگر افسوس معاہدہ کے مطابق مقامی ہندوؤں کی طرف سے نہ صرف اس نشان کی اشاعت نہ کی گئی بلکہ اصل میعاد کے ختم ہونے سے چند روز پہلے ہی یہ شور و غوغا مچانا شروع کر دیا کہ پیشگوئی غلط نکلی اور جب پیشگوئی کا ظہور ہو گیا تو انہوں نے چپ سادھ لی۔اور اعتراف حق کرنے کی ان کو توفیق نہ مل سکی۔یہ تو وہ پیشگوئی ہے جس پر ان ہندوؤں کے دستخط موجود تھے اس کے علاوہ اس عرصہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو صداقت اسلام کے ایک زندہ و تابندہ نشان کی بھی خبر دی گئی جس سے قرآن مجید اور رسول پاک ﷺ کی سچائی صرف قادیان کے ہندوؤں پر ہی نہیں بلکہ پوری دنیا پر آفتاب نیم روز کی طرح عیاں ہو گئی۔میری مراد مصلح موعود کی پیشگوئی سے ہے جو حضرت اقدس کی دعوت نشان نمائی اور اکتیس ماہ کی میعاد کے اندر کی گئی جس کی تفصیل ۱۸۸۶ء کے واقعات میں بیان ہوگی۔بیت اللہ شریف اور میدان عرفات میں حضرت صوفی احمد جان صاحب کی زبان سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی درد انگیز دعا ۱۸۸۵ء کے اوائل میں حضرت صوفی احمد جان صاحب سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اجازت سے جب سفر حج پر روانہ ہونے لگے تو حضرت مسیح موعود نے اپنے قلم سے انہیں ایک دردانگیز دعا تحریر فرمائی اور لکھا ” اس عاجز ناکارہ کی ایک عاجزانہ التماس یا د ر کھیں کہ جب آپ کو بیت اللہ کی زیارت بفضل اللہ تعالٰی نصیب ہو۔تو اس مقام محمود مبارک کی انہیں لفظوں سے مسکنت اور غربت