تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 264
تاریخ احمدیت۔جلدا YчP نشان نمائی کی عالمگیر دعوت حضرت مسیح کی قسم ہے کہ آپ آنے میں ذرا توقف نہ کریں۔تاحق اور باطل میں جو فرق ہے وہ آپ پر کھل جائے۔۲۴ غرض حضرت اقدس نے پادری سوفٹ پر ہر پہلو سے اتمام حجت کر دیا۔کوئی حق کا طالب ہو تا تو اس مرد خدا کی زیارت کو دیوانہ وار چل پڑتا۔مگر پادری صاحب کو محض سستی شہرت مطلوب تھی جب انہیں یہ گوہر مقصود نہ ملا تو ان کی زبان پر ابدی قفل لگ گئے۔حضرت مسیح موعود کی طرف سے چالیس روزہ میعاد کا تعین علامہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس دعوت پر مذاہب عالم میں سے کسی کو میدان مقابلہ میں آنے کی جرات نہ ہوئی تاہم مزید اتمام حجت کے لئے آپ نے ستمبر ۱۸۸۶ء میں سال کی شرط اڑا کر اس کی بجائے چالیس روز مقرر کر دیئے۔اور بالخصوص منشی جیون داس لالہ مرلی دھر ڈرائنگ ماسٹر ہوشیار پور، منشی اندرمن مراد آبادی، مسٹر عبد اللہ آتھم ، پادری عماد الدین اور پادری ٹھاکر داس کو ایک بار پھر دعوت دی اور فرمایا کہ اس عرصہ میں اگر ہم کوئی خارق عادت پیشگوئی پیش نہ کریں یا پیش کریں مگر بوقت ظهور وہ جھوٹی نکلے یا وہ اس کا مقابلہ کر کے دکھا دیں تو مبلغ پانسور روپیہ نقد بلا توقف ادا کر دیں گے لیکن اگر وہ پیشگوئی بپا یہ صداقت پہنچ گئی تو مشرف بہ اسلام ہونا پڑے گا۔مگر یہ آواز بھی بے نتیجہ ثابت ہوئی اور اس معرکہ میں اسلام کو ایک بار پھر فتح نصیب ہوئی۔مقامی ہندوؤں کی درخواست نشان نمائی یہ تو بیرونی دنیا کا ذکر ہے خود قادیان میں اس کی باز گشت ایک لحاظ سے خوشگوار رنگ میں سنائی دی اور وہ اس طرح کہ غالبا اگست ۱۸۸۵ء میں قادیان کے دس ہندوؤں نے (جن میں ساہوکار وغیرہ شامل تھے ) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں بارب درخواست کی کہ ہم آپ کے ہمسایہ لندن اور امریکہ والوں سے زیادہ آسمانی نشان دیکھنے کے حقدار اور مشتاق ہیں۔ہمیں کوئی نشان دکھایا جائے سعادت از لی تو خدا کی توفیق اور فضل سے عطا ہوتی ہے اس لئے مسلمان ہو جانے کی شرط تو ہم سے موقوف رکھی جائے البتہ ہم پر میشر کی قسم کھا کر وعدہ کرتے ہیں کہ ہم جو نشان آپ سے بچشم خود مشاہدہ کر لیں گے اخبارات میں بطور گواہ اسے شائع کرا دیں گے اور آپ کی صداقت کی حقیقت کو حتی الوسع اپنی قوم میں پھیلائیں گے۔اور ایک سال تک عند الضرورت آپ کے مکان پر حاضر ہو کر ہر قسم کی پیشگوئی پر بقید تاریخ دستخط کریں گے اور کوئی نامنصفانہ حرکت ہم سے ظہور میں نہیں آئے گی۔درخواست کے لفظ لفظ سے چونکہ سراسر انصاف و حق پرستی اور خلوص ٹپکتا تھا۔اس