تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 263 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 263

تاریخ احمدیت۔جلدا نشان نمائی کی عالمگیر دعوت شرط یہ تھی کہ چھ سو رو پید یعنی تین ماہ کی تنخواہ بطور پیشگی ہمارے پاس گوجرانوالہ میں بھیجی جائے اور نیز مکان وغیرہ کا انتظام حضور کے ذمہ رہے اور اگر کسی نوع کی وقت پیش آئے تو فور اوہ گوجرانوالہ کو واپس ہو جائیں گے اور جو روپیہ انہیں مل چکا ہو اس کی واپسی کا حضرت اقدس کو استحقاق نہیں ہو گا۔دوسری شرط یہ لکھی کہ الہام اور معجزہ کا ثبوت ایسا چاہیے ، جیسے کتاب اقلیدس میں ثبوت درج ہوتا ہے۔حضور کو یہ خط ملا تو آپ کو افسوس ہوا کہ حضور کی زبر دست سعی وجد وجہد کے باوجود عیسائیت کے علمبرداروں میں سے کوئی مرد میدان بن کر آگے نہیں آنا چاہتا۔اور جس نے آگے آنے کی حامی بھری تو محض دنیا پرستی کی تکمیل اور نام و نمود کے لئے۔بہر حال حضرت اقدس مایوس نہیں ہوئے۔چنانچہ آپ نے اپنے جواب میں ” الوہیت مسیح" کے بچھائے ہوئے جال کو اپنے قلم سے پارہ پارہ کرتے ہوئے انہیں نہایت احسن رنگ میں لکھا کہ آپ کے اطمینان قلب کے لئے روپیہ کسی سرکاری بنک یا مہاجن کے پاس جمع کر دیا جائے گا اور جس طرح چاہیں روپیہ کی بابت تسلی کرلیں مگر جب تک فریقین میں جو امر متنازعہ فیہ ہے وہ تصفیہ نہ پا جائے آپ کو پیشگی روپیہ لینے کا اصرار نہیں کرنا چاہیے مکان کے بارہ میں انہیں اطمینان دلایا کہ اس خاکسار کا یہ عہد و اقرار ہے کہ جو صاحب اس عاجز کے پاس آئیں ان کو اپنے مکان میں سے اچھا مکان اور اپنی خوراک کے موافق خوراک دی جائے گی۔اور جس طرح ایک عزیز اور پیارے مہمان کی حتی الوسع دلجوئی و خدمت و تواضع کرنی چاہیے اسی طرح ان کی بھی کیجائیگی۔ہاں یہ وضاحت بھی فرما دی کہ " یہ عاجز مسیح کی زندگی کے نمونہ پر چلتا ہے کسی باغ میں امیرانہ کو بھی نہیں رکھتا اور اس عاجز کا گھر اس قسم کی عیش و نشاط کا گھر نہیں ہو سکتا۔جس کی طرف دنیا پرستوں کی طبیعتیں راغب اور مائل ہیں"۔دوسری شرط کے متعلق فرمایا "اقلیدس میں بہت سی وہمی اور بے ثبوت باتیں بھری ہوئی ہیں۔جن کو جاننے والے خوب جانتے ہیں مگر آسمانی نشان تو وہ چیز ہے کہ وہ خود منکر کی ذات پر ہی وارد ہو کر حق الیقین تک اس کو پہنچا سکتا ہے۔اور انسان کو بجز ا سکے ماننے کے کچھ بن نہیں پڑتا۔سو آپ تسلی رکھیں کہ اقلیدس کے ناچیز خیالات کو ان عالی مرتبہ نشانوں سے کچھ نسبت نہیں چہ نسبت خاک را با عالم پاک اور یہ نہیں کہ صرف اس عاجز کے بیان پر ہی رہے گا۔بلکہ یہ فیصلہ بذریعہ ثالثوں کے ہو جائے گا۔اور جب تک ثالث لوگ جو فریقین کے مذہب سے الگ ہوں گے یہ شہادت نہ دیں کہ ہاں فی الحقیقت یہ خوارق اور پیشگوئیاں انسانی طاقت سے باہر ہیں تب تک آپ غالب اور یہ عاجز مغلوب سمجھا جائے گا"۔خط کے آخر میں اسے خدائے کامل اور صادق کی قسم دیتے ہوئے غیرت دلائی کہ " آپ ضرور تشریف لاویں ضرور آئیں اگر وہ قسم آپ کے دل پر موثر نہیں تو پھر اتمام الزام کی نیت سے آپ کو