تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 258
تاریخ احمد بیت - جلدا ۲۵۷ نشان نمائی کی عالمگیر دعوت کہیں اپنے مشرف باسلام ہونے کے عہد سے برگشتہ نہ ہو جائیں آپ سے اتنا ہی روپیہ کسی مہاجن کی دکان پر پیشگی جمع کرالوں تا جس کو خدا تعالی فتح بخشے اس کے لئے یہ روپیہ فتح کی ایک یاد گار رہے۔نیز لکھا ” یہ انتظام نہایت عمدہ اور مستحسن ہے کہ ایک طرف آپ وصولی روپیہ کے لئے اپنی تسلی کرلیں اور ایک طرف میں بھی ایسا بندو بست کرلوں کہ در حالت عدم قبول اسلام آپ بھی شکست کے اثر سے خالی نہ جانے پاویں۔اگر آپ اسلام کے قبول کرنے میں صادق النیست ہیں تو آپ کو روپیہ جمع کرنے میں کچھ نقصان اور اندیشہ نہیں۔کیونکہ جب آپ بصورت مغلوب ہونے کے مسلمان ہو جا ئیں گے تو ہم کو آپ کے روپیہ سے کچھ سروکار نہیں ہو گا۔بلکہ یہ روپیہ تو صرف اس حالت میں بطور تاوان آپ سے لیا جاوے گا کہ جب عہد شکنی کر کے اسلام کے قبول کرنے سے گریز یا روپوشی اختیار کریں گے۔سو یہ روپیہ بطور ضمانت آپ کی طرف سے جمع ہو گا۔اور صرف عہد شکنی کی صورت میں ضبط ہو گا نہ کسی اور حالت میں "۔پنڈت لیکھرام سمجھا کہ اس کے نامعقول مطالبہ کا جواب قطعی طور پر نفی میں ملے گا اور وہ اسے اچھالتے ہوئے اپنی شہرت کا موجب بنالے گا۔مگر جب حضور نے ہر طرح آمادگی کا اظہار فرمایا اور اس کے مطالبہ کی تکمیل کے لئے ایک معقول طریق بھی سامنے رکھ دیا تو اس نے لکھا کہ " آپ کو واجب تھا کہ پہلے ہی اشتہار میں صاف لفظوں میں شرط باندھتے کہ بطور قمار باز ان کے چوبیس سو روپیہ لگایا جاوے گا۔تا کہ شرائط کی ترمیم تنسیخ نہ کرنی پڑتی " نیز لکھا " میں باز آیا محبت سے اٹھا لو پاندان اپنا۔مگر آخری اپنا فرض دوستانہ ادا کرنا بھی واجب جانتا ہوں وہ یہ ہے کہ سچاند جب خدا کی طرف سے عالمگیر ہے اور جس کی صداقت کی شعائیں ہمیشہ آفتاب کی طرح جہان کو روشن کر رہی ہیں۔وہ آریہ دھرم ہے۔پس بخیال نیک نیتی کے دعوت کی جاتی ہیں کہ جس طرح اور کئی علماء و فضلاء دین محمدی اچھی طرح سوچ سمجھ کردید مقدس پر ایمان لائے ہیں آپ کو بھی اگر صراط المستقیم پر چلنے کی دلی تمنا ہے تو صدق دلی سے آریہ دھرم کو قبول کرد " لیکھرام کی تحریرات سے معلوم ہو تا ہے کہ اس مرحلہ پر حضرت مسیح موعود نے اسے جاہل سمجھ کر منہ لگانا ہی چھوڑ دیا۔مگر تین ماہ بعد جب اس نے آپ کی خدمت میں ایک پوسٹ کارڈ لکھا تو حضرت نے جو ابا لکھوایا کہ قادیان کوئی دور نہیں ہے آکر ملاقات کر جاؤ امید ہے کہ یہاں پر باہمی ملنے سے شرائط طے ہو جاویں گی۔حضرت اقدس کے خاندان کا ایک طبقہ جس میں آپ کا ایک چچازاد بھائی مرزا امام الدین اپنے ملحدانہ خیالات اور بے دینی میں پیش پیش تھا۔ابتداء ہی سے نہ صرف حضور کے دعاوی و الہامات کا مذاق اڑاتا تھا بلکہ اسلام اور رسول خدا اللہ اور قرآن مجید کے خلاف ہرزہ سرائی اس کا ایک عام