تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 251 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 251

تاریخ احمدیت۔جلدا ۲۵۰ ایک نہایت مبارک اور مقدس خاندان کی بنیاد یاد گار بھی کھو بیٹھی۔اب وہی فیض بلا انتطاع حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے چشمہ صافی سے جاری ہے۔اللهم متعنا بطول حياته واطلع شموس طالعہ اللہ تعالٰی نے حضرت ام المومنین رضی اللہ عنہما کے ذریعہ سے حضرت مسیح موعود کو جو مبارک نسل عطا فرمائی اسے الہی بشارات اور حضور کی رقت آمیز دعاؤں کے نتیجہ میں جو غیر معمولی ترقی ہوئی ہے وہ ایک خارق عادت نشان ہے جو رہتی دنیا تک قائم رہے گا۔پہلی بیوی سے حسن سلوک حضرت ام المؤمنین کا بیان ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اوائل ہی سے پہلی بی بی سے بے تعلقی ہی تھی جس کی وجہ یہ تھی کہ حضور کے رشتہ داروں کو دین سے سخت بے رغبتی تھی اور ان کا میلان ان کی طرف تھا اور وہ اسی رنگ میں رنگین تھیں اس لئے آپ نے ان سے خصوصی تعلقات ترک کر دیے تھے۔ہاں حسن معاشرت میں آپ نے کبھی فرق نہیں آنے دیا۔اور انہیں اخراجات وغیرہ با قاعدہ دیا کرتے تھے۔نکاح ثانی کے بعد حضرت اقدس نے انہیں کہلا بھیجا۔اب میں نے دوسری شادی کرلی ہے اب اگر دونوں بیویوں میں برابری نہیں رکھوں گا تو میں گنہگار ہوں گا۔اس لئے اب دو باتیں ہیں۔یا تو تم مجھ سے طلاق لے لو اوریا مجھے اپنے حقوق چھوڑ دو۔میں تم کو خرچ دیئے جاؤں گا انہوں نے کہلا بھیجا کہ اب میں بڑھاپے میں کیا طلاق لوں گی۔بس مجھے خرچ ملتا رہے میں اپنے باقی حقوق چھوڑتی ہوں۔چنانچہ حضرت اقدس نے ان کی یہ خواہش منظور فرمالی۔اور وسط ۱۸۹۱ء تک انہیں برابر خرچ ملتا رہا۔لیکن بعد کو جب وہ اپنے بے دین رشتہ داروں کے ساتھ حضور کی مخالفت میں کھلم کھلا شامل ہو گئیں تو حضور نے محض دینی غیرت کے تحت ان کو طلاق دے دی۔طلاق دینے سے پہلے حضور نے ۲۔مئی ۱۸۹۱ء کو اپنے ایک اشتہار میں انہیں مخالفانہ سرگرمیوں سے دستکش ہونے کی ہدایت فرماتے ہوئے آخری بار اختباہ بھی کیا لیکن انہوں نے کچھ پروا نہیں کی۔تب مجبور احضرت اقدس کو بھی ان سے کلیتہ قطع تعلق کا فیصلہ کرنا پڑا۔حضور نے طلاق کے بعد بھی خدمت خلق کے اسلامی تقاضوں کے مطابق انہیں اپنی نوازشوں سے محروم نہیں رکھا۔بلکہ گاہے گاہے ضرورت کے وقت حضرت ام المؤمنین کے توسط سے انہیں امداد بھی دیتے رہے۔چنانچہ حضرت ام المومنین ہی کی روایت ہے کہ :- ایک دفعہ مرزا سلطان احمد کی والدہ بیمار ہو ئیں تو چونکہ حضرت صاحب کی طرف سے مجھے اجازت تھی میں انہیں دیکھنے کے لئے گئی۔واپس آکر میں نے حضرت صاحب سے ذکر کیا کہ یہ تکلیف ہے۔آپ خاموش رہے۔میں نے دوسری دفعہ کہا تو فرمایا۔میں تمہیں دو گولیاں دیتا ہوں یہ دے آؤ۔مگر اپنی طرف سے دینا میرا نام نہ لینا۔اور بھی بعض اوقات حضرت صاحب نے اشارہ کنایہ مجھ پر ظاہر کیا