تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 241 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 241

تاریخ احمدیت۔جلدا ۲۴۰ حوا واشی حضرت اقدس کا پہلا سفر لدھیانہ ☑ -2 جماعت لدھیانہ کے روح رواں اور حضرت اقدس کے قدیم عشاق میں سے تھے حضرت نے ازالہ اوہام صفحہ ۷۹۳-۷۹۴ میں اپنے مخلصین کا تذکرہ کرتے ہوئے انکے متعلق تحریر فرمایا ہے " اس عاجز کے ایک منتخب دوستوں میں سے ہیں۔محبت و خلوص و وفاء صدق و صفا کے آثار ان کے چہرہ پر نمایاں ہیں خدمت گزاری میں ہر وقت کھڑے ہیں۔اور ایام سکونت لدھیانہ میں جو چھ چھ ماہ تک بھی اتفاق ہوتا ہے ایک بڑا حصہ مہمانداری کا خوشی کے ساتھ وہ اپنے ذمے لے لیتے ہیں اور جہاں تک ان کے قبضہ قدرت میں ہے وہ ہمدردی اور خدمت اور ہر ایک قسم کی غمخواری میں کسی بات سے فرق نہیں کرتے۔لدھیانہ سے مالیر کوٹلہ تک ان کی شکر میں چلتی تھیں عمر کے آخر میں قادیان آگئے تھے اور مہتمم لنگر خانہ کے فرائض نہایت درجہ استقلال و امانت سے سنبھال لئے۔۲۴ اگست ۱۹۱۲ء کو لدھیانہ میں فوت ہوئے اور بہشتی مقبرہ میں دفن ہوئے ( الحکم ۱۴۴۷۔ستمبر ۲۸٬۶۱۹۱۲- اگست ۱۹۳۵ء) انقلاب ۱۸۵۷ء کے بعد ترک وطن کر کے لدھیانہ میں جاگزیں ہو گئے حضرت اقدس کے بڑے خدائی تھے ایک مرتبہ انہوں نے حضور کی خدمت میں ایک خط اور منی آرڈر بھجوایا جس کے متعلق تحمیل از وقت حضور کو خدا تعالیٰ نے اطلاع دے دی جو انکے اخلاص پر ایک آسمانی شہادت تھی۔وفات ۱۸۹۱ء (الحکم ۳۱ مارچ ۱۹۳۲ء صفحه ۹) حکیم محمد عمر صاحب کے والد ما جدا آپ نے ۳۱- دسمبر ۱۹۲۰ء کو ۸۰ سال کی عمر میں انتقال فرمایا۔آپ کو قبول صداقت کے بعد بہت سی مالی اور اعزازی قربانیاں دینی پڑ ہیں۔مگر آپ مضبوط چٹان کی طرح اپنے عقیدہ پر تادم آخر مستحکم رہے۔۳۱۳- اصحاب کبار میں آپ کا نام ۱۳۱ نمبر پر ہے سید نا حضرت مسیح پاک علیہ السلام نے آپ کو بیعت لینے کی بھی اجازت دے رکھی تھی۔(الفضل ۲۰-۱۷- اپریل ۱۹۳۲ء) کابل کے مشہور شاہی خاندان درانی سے تعلق رکھتے تھے اور شاہ شجاع کی نسل میں سے تھے۔اس خاندانی عظمت کے باوجود ان کی پوری زندگی تو کل سے معمور درویشی میں گزری۔خلافت ثانیہ کے آغاز میں جب حضرت مصلح موعود نے وقف زندگی کی تحریک فرمائی تو حضرت شہزادہ صاحب نے اپنا مکان فروخت کر دیا اور اپنے خرچ پر تبلیغی جہاد پر جانے کے لئے اپنی خدمات پیش کر دیں۔اس وقت آپ کو بھجوایا نہ جاسکا اور جب کچھ عرصہ بعد انہیں حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ایران جانے کا ارشاد فرمایا تو وہ روپیہ خرچ کر چکے تھے۔لیکن انہوں نے اس امر کا اشارہ بھی اظہار کرنا گوارا نہیں کیا۔اور اسی بے سرو سامانی کی حالت میں ایران کی طرف چل دیئے۔اور پیرانہ سالی اور کس میری کے باوجود چار سال تک تبلیغ حق میں مصروف عمل رہے اور اسی جہاد میں اپنی زندگی ختم کر دی۔اور ۲۳ فروری ۱۹۲۸ء کو انتقال فرمایا۔آپ کی شہادت کی خبر پر حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایده اللہ نے فرمایا کہ تسلسلینہ خوش قسمت ہے کہ وہ حضرت ایوب انصاری کا مدفن بنا۔اور ایران کو یہ فخر نصیب ہوا کہ وہاں خدا نے ایک ایسے شخص کو وفات دی جسے لوگ اس کی زندگی میں ولی اللہ کہتے تھے۔(الفضل ۲۷ مارچ ۱۹۲۸ء صفحه - الحکم نمبر ۲ تا ۳۶ جلد ۱۹۳۴-۳۷ء - الفضل ۲۸- دسمبر ۱۹۳۹ء صفحه ۸۶) مکتوبات احمد یہ جلد اول صفحہ ۷۲ ناشر حضرت شیخ یعقوب علی صاحب دسمبر ۱۹۰۸ء انوار احمدیہ مشین پریس قادیان - قادیان کے ایک نیک مزاج مولوی صاحب احضرت اقدس سے ان کا گہرا تعلق تھا اور وہی مسجد اقصیٰ کے اولین امام تھے ان کا ایک بھائی غفار اجو بالکل جاہل تھا بعض اوقات حضور کی خدمت میں رہتا تھا۔(سیرت المہدی حصہ اول - طبع ثانی - صفحہ ۲۲۰-۲۲۱) بیعت اولی کی تاریخی تقریب میں نویں نمبر پر بیعت کی اور اپنے چچا اور خسر میر عباس علی صاحب کے ارتداد کے باوجود آخر دم تک حق و صداقت کے پر جوش داعی و علمبردار رہے۔بڑے مستجاب الدعوات اور صاحب کشف تھے۔لدھیانہ کے سجادہ نشینوں میں سے تھے۔خانقاہ کے ساتھ کافی زمین ورثہ میں پانی تھی۔مگر آپ وہاں کبھی جا کر کھڑے بھی نہیں ہوئے۔نتیجہ یہ ہوا کہ خانقاہ کے جاروب کش ہی مالک بن بیٹھے مریدوں سے اکثر فرمایا کرتے کہ ہم تو خود اصل سرکار کے مرید ہیں۔ولادت ۱۸۵۸ء وفات ۳۔ستمبر ۱۹۴۳ الفضل ۲۲٬۲۱ ستمبر ۱۹۲۳ء صفحه ۳)