تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 240 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 240

تاریخ احمدیت۔جلدا ۲۳۹ حضرت اقدس کا پہلا سفر لدھیانہ رہے۔چونکہ کوئی آدمی ساتھ نہ تھا اس لئے ہمیں معلوم نہیں ہوا کہ اندر کیا کیا باتیں ہو ئیں۔اس کے بعد حضرت صاحب مع سب لوگوں کے پیدل ہی مسجد کی طرف چلے گئے اور نواب صاحب بھی سیر کے لئے باہر چلے گئے۔مسجد میں پہنچ کر حضور نے فرمایا کہ سب لوگ پہلے وضو کریں اور پھر دو رکعت نماز پڑھ کر نواب صاحب کی صحت کے واسطے دعا کریں کیونکہ یہ تمہارے شہر کے والی ہیں۔اور ہم بھی دعا کرتے ہیں۔غرض حضرت اقدس نے مع سب لوگوں کے دعا کی اور پھر اس کے بعد لدھیانہ واپس تشریف لے آئے اور باوجود اصرار کے مالیر کوٹلہ میں اور نہ ٹھہرے سفرانبالہ پٹیالہ و سنور ۱۸۸۴ء میں حضرت نے انبالہ چھاؤنی کا سفر اختیار فرمایا جہاں آپ کے خسر حضرت میر ناصر نواب صاحب مقیم تھے۔سنور کے مخلصین کو معلوم ہوا تو انہوں نے حضور کی خدمت میں غلام قادر صاحب ( ولد اللہ بخش) عبد الرحمن صاحب ( ولد اللہ بخش) اور منشی عبداللہ صاحب سنوری پر مشتمل ایک وفد بھجوایا تا حضور کو سنور تشریف لانے کی دعوت دیں۔چنانچہ منشی عبد اللہ صاحب سنوری کی درخواست پر حضور واپسی کے وقت سنور تشریف لے گئے۔رستہ میں پٹیالہ میں بھی مختصر سا قیام فرمایا۔آپ پٹیالہ سٹیشن پر پہنچے تو بے شمار لوگ آپ کی زیارت کے لئے موجود تھے۔وزیر الدولہ مدیر الملک خلیفہ سید محمد حسن صاحب خان بہادر سی آئی ای وزیر اعظم T پٹیالہ نے جو آپ کے خاص ارادت مندوں میں سے تھے آپ کو شاہی بگھی میں بٹھایا اور اپنی کو ٹھی میں لے گئے۔حضرت اقدس نے پٹیالہ کے مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے ایک مختصر تقریر بھی فرمائی اور کہا کہ یہ تمہارے وزیر شیعہ نہیں ہیں اہل سنت والجماعت میں سے ہیں ان کے لئے تم بھی دعا کرو میں بھی دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کا خاتمہ بالخیر کرے اس کے بعد حضرت نے حاضرین سمیت ہاتھ اٹھا کر دعا فرمائی اور بگھی پر سوار ہو کر سنور تشریف لے گئے۔دوپہر کا کھانا تناول فرمانے کے بعد ظہر و عصر کی نمازوں کے لئے مسجد شیخاناں گئے۔خدام نے حضرت اقدس سے بار بار عرض کیا کہ آپ نماز پڑھا ئیں مگر آپ نے یہی جواب دیا کہ اس مسجد کا امام جماعت کرائے۔آخر کار حد درجہ اصرار ہوا تو پھر آپ ہی نے نماز پڑھائی۔حضرت اقدس نے منشی عبداللہ صاحب سنوری کے گھر کو بھی اپنے قدم مبارک سے برکت بخشی اس وقت منشی صاحب کے داد امحمد بخش صاحب بقید حیات تھے انہیں حضرت اقدس سے مصافحہ کا شرف بھی حاصل ہوا۔بعد ازاں پٹیالہ سے ہوتے ہوئے واپس انبالہ چھاؤنی روانہ ہو گئے۔اس سفر میں منشی عبد اللہ صاحب سنوری بھی آپ کے ہمراہ تھے۔