تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 239 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 239

تاریخ احمدیت۔جلدا لدھیانہ کا دوسرا سفر ۲۳۸ حضرت اقدس کا پہلا سفر لدھیانہ لدھیانہ کے اس اولین سفر کے بعد حضور کو میر عباس علی صاحب کی عیادت کے لئے اسی سال ۱۴- اکتوبر کو دوبارہ لدھیانہ تشریف لانا پڑا۔حضور نے اس دفعہ قبل از وقت محض سرسری سی اطلاع دی تھی تاہم قاضی خواجہ علی صاحب مولوی عبد القادر صاحب اور نواب علی محمد خان صاحب آن مھجر حضور کے استقبال کے لئے اسٹیشن پر موجود تھے۔حضور کا قیام بہت مختصر تھا۔صرف دو ایک دن آپ ٹھہرے اور سنت نبوی ( ا ) کی تعمیل میں عیادت کا اسلامی فریضہ ادا کرنے کے بعد قادیان واپس تشریف لائے۔II سفر مالیر کوٹلہ نواب محمد ابراہیم علی خاں صاحب آف مالیر کوٹلہ کو ان دنوں اپنے بڑے بیٹے عشق علی خان کی وفات وغیرہ صدمات کی وجہ سے خلل دماغ کا عارضہ لاحق تھا اور انہوں نے ریاستی امور سے کنارہ کشی اختیار کرلی تھی ان کی والدہ صاحبہ کو حضرت اقدس کی آمد کی اطلاع پہنچی تو انہوں نے یہ موقعہ غنیمت سمجھتے ہوئے آپ سے اپنے ہاں تشریف لانے اور اپنے بچے کی شفایابی کے لئے دعا کرنے کی درخواست کی۔چنانچہ حضور قاضی خواجہ علی صاحب کی شکرم میں بیٹھ کر میر عنایت علی صاحب اور دوسرے آٹھ دس خدام کے ہمراہ مالیر کوٹلہ تشریف لے گئے اور دعا کرتے ہی لدھیانہ پلٹ آئے۔میر عنایت علی صاحب کا بیان ہے کہ اس وقت تک ابھی مالیر کوٹلہ کی ریل جاری نہیں ہوئی تھی۔میں بھی حضور کے ہمرکاب تھا۔حضرت صاحب نے یہ سفر اس لئے اختیار کیا تھا کہ بیگم صاحبہ یعنی والدہ نواب ابراہیم علی خان صاحب نے اپنے اہلکاروں کو لدھیانہ بھیج کر حضرت صاحب کو بلایا تھا کہ حضور مالیر کوٹلہ تشریف لاکر میرے لڑکے کو دیکھیں اور دعا فرما ئیں کیونکہ نواب ابراہیم علی خاں کو عرصہ سے خلل دماغ کا عارضہ ہو گیا تھا۔حضرت صاحب لدھیانہ سے دن کے دس گیارہ بجے قاضی خواجہ علی صاحب کی شکرم میں بیٹھ کر تین بجے کے قریب مالیر کوٹلہ پہنچے اور ریاست کے مہمان ہوئے۔جب صبح ہوئی تو بیگم صاحبہ نے اپنے اہلکاروں کو حکم دیا کہ حضرت صاحب کے لئے سواریاں لے جائیں تا کہ آپ باغ میں جا کر نواب صاحب کو دیکھیں مگر حضرت اقدس نے فرمایا کہ ہمیں سواری کی ضرورت نہیں ہم پیدل ہی چلیں گے۔چنانچہ آپ پیدل ہی گئے اس وقت ایک بڑا ہجوم لوگوں کا آپ کے ساتھ تھا۔جب آپ باغ میں پہنچے تو مع اپنے ساتھیوں کے ٹھہر گئے نواب صاحب کو ٹھی سے باہر آئے اور پہلی دفعہ حضرت صاحب کو دیکھ کر پیچھے ہٹ گئے لیکن پھر آگے بڑھ کر آئے اور حضرت صاحب سے السلام علیکم کیا اور کہا کہ کیا براہین کا چوتھا حصہ چھپ گیا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ ابھی تو نہیں چھپا مگر انشاء اللہ عنقریب چھپ جائے گا۔اس کے بعد نواب صاحب نے کہا کہ آئیے اندر بیٹھیں۔چنانچہ حضرت صاحب اور نواب صاحب کو بھی کے اندر چلے گئے اور قریباً آدھ گھنٹہ اندر