تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 230
تاریخ احمدیت۔جلدا ۲۲۹ مسجد مبارک کی تعمیر طرف متوجہ ہو جاتے تو شاید ہندو جاتی میں اسلام کے متعلق ایک عام رو پیدا ہو جاتی لیکن افسوس پنڈت جی نے داعی حق کی آواز سن کر چپ سادھ لی۔اور پوری عمر اپنے غلط بے حقیقت اور خود ساختہ عقائد 21 کے پر چار میں بسر کر دی اور اسی بے خبری میں ۳۰ اکتوبر ۱۸۸۳ء کو اس جہان سے کوچ کر گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کی وفات سے صرف چھ ماہ قبل ان پر آخری دفعہ اتمام حجت کرنے کے لئے متعدد رجسٹری خطوط لکھے جنمیں صاف لفظوں میں یہ انتباہ کرتے ہوئے کہ دنیا چند روزہ ہے اور آخر کار خدا سے معاملہ پڑنے والا ہے۔انہیں از راہ شفقت و محبت توجہ دلائی کہ وہ اپنے باطل خیال پر تعصب و عناد سے جمے رہنے کی بجائے قرآن مجید کی صداقت کے عقلی دلائل اور اس کی روحانی برکات ملاحظہ کرنے کے لئے حضور کی تصنیف براہین احمدیہ " کا مطالعہ کریں۔نیز یہ وعدہ بھی فرمایا کہ اگر وہ حق و صداقت کی جستجو میں اس کتاب کا مطالعہ کرنے پر رضامند ہوں تو انہیں یہ قیمتی کتاب مفت ارسال فرما دیں گے۔آپ نے انہیں یہ پیشکش بھی فرمائی کہ کتاب کے غیر جانبدارانہ مطالعہ کے بعد بھی ان کی نظر میں اسلام کی صداقت مشکوک رہے تو وہ مزید تسلی و تشفی کے لئے قادیان آئیں اور انکی آمد و رفت اور قیام کے واجبی اخراجات آپ خود برداشت کریں گے۔پنڈت دیا نند جی نے ان خطوط کی رسید بھجوادی مگر اپنی گزشتہ روایات کے مطابق اس بارہ میں آخر وقت تک بالکل ساکت رہے پنڈت جی کی یہ اتنی بڑی کھلی شکست تھی کہ انکے سوانح نگاروں نے جہاں ان کی زندگی کے واقعات پر تفصیلی قلم اٹھایا وہاں اس عظیم الشان واقعہ کی طرف اشارہ تک کرنے کی جرات نہیں کر سکے۔پنڈت دیا نند کی وفات کے متعلق بھی آپ کو قبل از وقت اطلاع دی گئی تھی جسے آپ نے قادیان کے ہندوؤں اور آریوں کو بتا دیا تھا۔اس طرح پنڈت دیا نند کی زندگی تو ان کی ہزیمت و شکست کا ثبوت تھی ہی ان کی موت بھی اسلام کی زندگی کا نشان بن گئی