تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 229 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 229

تاریخ احمدیت۔جلدا ۲۲۸ مسجد مبارک کی تعمیر ہوئے بزبان حال پکار رہی تھی۔۔وہ بیمار قریب مرگ ہے، اسلام واویلا مسیحا کو نہیں ہے جس کی امید شفا باقی اللہ تعالی نے اسلامی دنیا کی زہرہ گداز اور درد انگیز کس مپرسی کے اس دور میں مسیح موعود علیہ السلام کو بذریعہ رویا خبر دی کہ " عنایت الہیہ مسلمانوں کی اصلاح اور ترقی کی طرف متوجہ ہے اور یقین کامل ہے کہ اس قوت ایمان اور اخلاص اور توکل کو جو مسلمانوں کو فراموش ہو گئے ہیں پھر خداوند کریم یاد دلائے گا اور بہتوں کو اپنے خاص برکات سے متمتع کریگا۔کہ ہر یک برکت ظاہری اور باطنی اسی کے ہاتھ میں ہے "۔مسلمانوں کی از سر نو ترقی اور عروج کے بارہ میں یہ تاریخی الہام بھی نازل ہوا کہ " بخرام کہ وقت تو نزدیک رسید و پائے محمدیاں بر منار بلند تر محکم افتاد" یعنی خوش ہو کہ تیری ترقی کا وقت قریب آپہنچا اور مسلمانوں کا قدم ایک بہت بلند مینار پر مضبوط پڑا۔اس الہام الہی میں مسلمانان عالم کے عظیم الشان اور روشن مستقبل کی خبر دی گئی تھی۔اللہ تعالیٰ کی ان بشارتوں کے مطابق اس کے فضل سے نہ صرف ۱۴- اگست ۱۹۴۷ء سے پاکستان ایسی عظیم الشان اسلامی مملکت معرض ظہور میں آچکی ہے بلکہ دنیا کے مسلمان پستی کی حالت سے نکل کر آہستہ آہستہ شان و شوکت کے اس مضبوط اور بلند مینار کی طرف آرہے ہیں جس کی خبر آپ کو دی گئی تھی۔ایران - مصر- ٹیونس ، مراکش اور لیبیا اب غیر ملکی چنگل سے آزاد ہو چکے ہیں۔سوڈان خود مختار ہو چکا ہے۔انڈونیشیا میں مسلمان حکومت قائم ہو چکی ہے۔ترکی بڑی تیزی سے ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہے۔الجیریا وغیرہ ممالک کو ابھی تک غلامی کی زنجیروں میں ہیں مگر ان کی تحریک آزادی عالمی رائے کا مرکز بن رہی ہے۔غرض ۱۸۸۳ء کے مایوس کن اور خطرناک حالات کا نقشہ یکسر بدل چکا ہے اور اس کی جگہ ایک حوصلہ افزا ماحول نے لے لی ہے۔(جولائی ۱۹۶۲ ء میں الجیریا بھی آزاد ہو چکا ہے) بانی آریہ سماج پر آخری اتمام حجت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ابتداء ہی سے تبلیغ دین کا ایک پر جوش اور بے پناہ جذبہ عطا ہو ا تھا اور آپ غیر مذاہب کے سر بر آوردہ رہنماؤں کو اسلام کا پیغام پہنچانا اور ان کی ملحدانہ تعلیمات و عقائد کا رد کرنے کو اپنا فرض اولین سمجھتے تھے۔آپ نے ۱۸۷۸ ء میں "پنڈت دیا نند جی سرسوتی " کو روحوں کے ان گنت ہونے کے متعلق چیلنج دے کر خط و کتابت کی جو طرح ڈالی تھی اس کا مقصد وحید بھی یہی تھا کہ وہ ایک جدید ہندو فرقہ کے بانی تھے۔اگر وہ اپنے غلط اور بے بنیاد عقائد سے رجوع کر کے آپ کی