تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 206 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 206

تاریخ احمدیت جلدا ۲۰۵ خلعت ماموریت سے سرفرازی بنیادی لحاظ سے آخر وقت تک اس میں نہ کوئی اضافہ ہوا نہ ترمیم۔وہی دعاوی تھے اور وہی اغراض و مقاصد - لہذا بعد کو اگر کوئی ارتقائی رنگ پیدا ہوا تو وہ محض ذاتی یا نظریاتی تھا و اقعاتی ہرگز نہیں تھا جو خدا تعالی کی قدیم سنت کے عین مطابق وقوع میں آیا۔دنیا میں نشان نمائی کی پہلی باطل شکن دعوت اسلامی دنیا میں اس وقت غیر مذاہب کے مقابلہ میں محض عقلی اور نقلی دلائل کا سہار ا لیا جاتا تھا۔جو اس کار زار عالم میں چنداں مفید نہیں تھا۔منطق ، فلسفہ، خطابت اور تحریر کی قوتوں میں ایک مسلم اور کافر دہریہ اور خدا پرست دونوں ہی شریک ہو سکتے ہیں بلکہ عین ممکن ہے کہ کفر کے نمائندے کی پشت پر اگر اقتدار اور دولت کام کر رہی ہو تو اس کے قلم و زباں میں غیر معمولی قوت و شوکت پیدا ہو جائے اور یہ امکان اس زمانے میں واقعاتی شکل میں موجود تھا۔عیسائی مناد آریہ سماجی اور برہمو سماجی پر چارک قوت و ثروت کے بل بوتے پر پورے ملک پر چھا چکے تھے اور مسلم علماء جواب کی تاب نہ لاکر ایک کونے میں سے بیٹھے تھے اور جو تھوڑے بہت خدا کے حق پرست بندے علمی مدافعت میں مصروف تھے ان کے دلائل میں کوئی جان کوئی عظمت اور کوئی شوکت نہیں تھی۔اللہ تعالی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو چونکہ اسلام کے عالمگیر غلبہ کے لئے بھیجا تھا اس لئے ادھر آپ مامور ہوئے اور ادھر آپ نے کفر و اسلام کی جنگ کا اسلوب ہی بدل دیا۔آپ نے علماء ظواہر کے پامال اور فرسودہ ہتھیاروں کی بجائے اسلام اور محمد رسول اللہ ﷺ کو زندہ ثابت کرنے کے لئے اپنا وجود پیش کیا اور دنیا بھر میں منادی کرادی کہ اگر کوئی طالب حق قرآن مجید کی سچائی کے زندہ نشانات دیکھنا چاہتا ہے تو آپ کے پاس آئے اور آپ کی صحبت میں صحت نیت کے ساتھ رہے تو وہ اپنی آنکھوں سے نشانات دیکھے گا اس کے بر عکس قرآن کے مخالف اپنے مذہب کی سچائی میں ہر گز کوئی نشان نہیں دکھا سکیں گے اور صرف گذشتہ زمانے کے حوالہ پر ہی اکتفاء کریں گے جو ان کے غلطی خوردہ ہونے کی فیصلہ کن دلیل ہے۔نشان نمائی کی یہ باطل شکن دعوت آپ نے پہلی مرتبہ ۱۸۸۲ء میں براہین احمدیہ حصہ سوم کے ذریعہ سے کی چنانچہ آپ نے فرمایا۔" آج تک کوئی ایسی صدی نہیں گزری جس میں خدا تعالٰی نے مستعد اور طالب حق لوگوں کو قرآن شریف کی پوری پوری پیروی کرنے سے کامل روشنی تک نہیں پہنچایا اور اب بھی طالبوں کے لئے اس روشنی کا نہایت وسیع دروازہ کھلا ہے۔یہ نہیں کہ صرف کسی گذشتہ صدی کا حوالہ دیا جائے جس طرح بچے دین اور ربانی کتاب کے حقیقی تا بعد اروں میں روحانی برکتیں ہونی چاہیں اور اسرار