تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 4 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 4

تاریخ احمدیت۔جلدا "1 سلسلہ احمدیہ کا تعارف آجائے اوراسی طرح مستحکم بھی ہو جائے۔عرب قوم نے جن اعلیٰ ذہنی صلاحیتوں اور قوتوں کا ثبوت اس زمانہ میں دیا وہ صلاحیتیں اور قوتیں عرب دماغ میں آج بھی ہونی چاہئیں۔آج عرب دنیا سوئی ہوئی ہے اسے کسی محمد کی ضرورت ہے جو اسے نیا الہام دے کر حرکت میں لے آئے"۔مارس انڈس نے صرف عرب ممالک تک ہی اپنی نظر محدود نہیں رکھی بلکہ وہ تمام دنیا پر گہری نظر ڈالنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا کہ دمشق ، بیروت ، بغداد ، مکہ طہران، قاہرہ اور ان کے ساتھ لنڈن اور واشنگٹن بھی ایک پیغمبر کے انتظار میں ہیں جو سماجی مقصد اور اصلاح کا جھنڈا لئے ہوئے عیسی کی طرح کاشتکار کو صرف یہ کہہ کر ہوش میں لائے کہ جاگ جاگ 11 اور طاقت کا مظاہرہ کر " لو تھری ٹاڈرڈ (Loth Ro toddard) اٹھارہویں صدی عیسوی میں دنیائے اسلام کا نقشہ کھینچتے ہوئے لکھتا ہے: مذہب بھی دیگر امور کی طرح پستی میں تھا۔تصوف کے طفلانہ تو ہمات نے خالص اسلامی توحید پر پردہ ڈال دیا تھا۔مسجد میں ویران اور سنسان پڑی تھیں۔جاہل عوام ان سے بھاگتے تھے اور تعویذ گنڈے میں پھنس کر فقیروں اور دیوانے درویشوں پر اعتقاد رکھتے تھے اور ان بزرگوں کے مزاروں پر زیارت کو جاتے جن کی پرستش بارگاہ ایزدی میں شفیع اور رولی کے طور پر کی جاتی۔۔۔قرآن مجید کی تعلیم نہ صرف پس پشت ڈال دی گئی بلکہ اس کی خلاف ورزی بھی کی جاتی تھی۔۔۔یہاں تک کہ مقامات مقدسہ بد اعمالیوں کے مرکز بن گئے تھے۔فی الجملہ اسلام کی جان نکل چکی تھی۔۔۔اگر حضرت محمد الے پھر دنیا میں آتے تو وہ اپنے پیروؤں کے ارتداد اور بت پرستی پر بیزاری کا اظہار فرماتے " اسی طرح یورپ کے ایک مشہور پروفیسر میکنزی اپنی کتاب ”انٹروڈکشن ٹو سوشیالوجی" میں لکھتے۔ہیں : کامل انسانوں کے بغیر سوسائٹی معراج کے کمال پر نہیں پہنچ سکتی اور اس غرض کے لئے محض عرفان اور حقیقت آگاہی کافی نہیں بلکہ ہیجان اور تحریک کی قوت بھی ضروری ہے جسے یوں کہنا چاہئے کہ یہ معمہ حل کرنے کے لئے ہم نور و حرارت دونوں کے محتاج ہیں۔غالبا عہد حاضر کے معاشرتی مسائل کا فلسفیانہ فہم و ادراک بھی وقت کی اہم ترین ضرورت نہیں۔ہمیں معلم بھی چاہئے اور پیغمبر بھی۔ہمیں آج رسکن یا کارلائل یا ٹالسٹائی جیسے لوگوں کی ضرورت ہے جو ضمیر کو زیادہ تشدد اور سخت گیر بنانے اور فرائض کے دائرے کو زیادہ وسیع کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔غالباً ہمیں ایک مسیح کی ضرورت ہے۔۔۔یہ قول صحیح ہے کہ عہد حاضر کے پیغمبر کو محض " بیابان کی صدا نہیں ہونا چاہئے۔کیونکہ عہد حاضر کے ” بیابان آباد شہروں کے گلی کوچے ہیں جہاں ترقی کی مسلسل و پیم جد و جہد کا بازار گرم ہے۔اس