تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 196
تاریخ احمدیت جلدا ۱۹۵ براہین احمدیہ کی تصنیف و اشاعت آپ کی اطلاع درست نکلتی اور وہ بالکل مبہوت ہو کر رہ جاتے۔DA براہین احمدیہ کی تصنیف و اشاعت قولنج زجیری کا خطرناک حملہ اور اعجازی شفاء کا نشان کے کام میں حضرت اقدس نے اپنی صحت سے بے نیاز ہو کر جان کی بازی لگادی تھی۔لیکن اس مسلسل جہاد میں آپ کے صبر و رضاء کا ایک درد انگیز امتحان بھی مقدر تھا جو اسی سال ایک شدید بیماری کی شکل میں ظاہر ہوا۔۱۸۸۰ء میں ایک مرتبہ قادیان اور بٹالہ کے ماحول میں قولنج زمیری کی وباء پھوٹ پڑی اور متعدد اموات ہو ئیں بلکہ خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر بھی اس کا خطرناک حملہ ہوا۔آپ کے ساتھ ہی قادیان میں ایک اور شخص (محمد بخش حجام نامی) بھی بیمار ہوا اور اگرچہ اس کی بیماری آپ کے مقابل میں نسبتاً زیادہ سخت نہیں تھی لیکن وہ آٹھ دن میں ہی راہی ملک عدم ہو گیا حضرت اقدس برابر سولہ روز تک اس ملک مرض میں مبتلا رہے اور پے در پے خونی اجابتوں نے آپ کی حالت یہاں تک نازک کردی که خویش و اقارب نے ایک دو دفعہ نہیں متواتر تین مرتبہ یہ سمجھ کر کہ آپ کا سفر آخرت آن پہنچا ہے مسنون طریق پر سورہ یسین سنائی۔سولہویں دن جب تیسری باریس پڑھی گئی تو دیواروں کے پیچھے وہ زارو قطار رونے لگے اور انہیں پختہ یقین ہو گیا کہ آپ آج شام تک قبر میں ہوں گے۔جب بیماری اس درجہ تشویشناک صورت اختیار کر گئی تو اللہ تعالی کی طرف سے آپ کو تسبیح و تحمید اور درود شریف کی ایک دعا سکھائی گئی سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيمِ اللَّهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَالِ محمد اور حکم ملا کہ یہ دعا پڑھتے ہوئے دریا کے پانی اور ریت میں ہاتھ ڈالکر اسے اپنے بدن پر پھیریں اس سے آپ شفاء پائیں گے۔چنانچہ دریا سے پانی اور ریت منگوائی گئی۔اس وقت آپ کا پورا جسم درد ناک جلن میں مبتلا تھا اور ایک ایک بال سے آگ نکل رہی تھی اور طبیعت بے اختیار اس بات کی طرف مائل تھی کہ اس حالت سے موت بہتر ہے۔مگر جونہی آسمانی معالج اور حکیم مطلق کا علاج شروع ہو ا طبیعت میں رکا ایک خوشگوار انقلاب پیدا ہو گیا۔جوں جوں آپ یہ کلمات پڑھ کر پانی کو بدن پر ہرتے آپ کو محسوس ہوتا کہ آگ اندر سے نکلتی جاتی ہے اور مرض میں افاقہ اور طبیعت میں سکون ہوتا جاتا ہے۔یہاں تک کہ ابھی پیالہ کا پانی ختم نہ ہوا تھا کہ آپ کو اعجازی رنگ میں شفا عطا ہوئی اور آپ بکلی صحت یاب ہو گئے۔بیماری کے دوران میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عیادت کے لئے ابو سعید مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے والد مولوی رحیم بخش صاحب بھی آئے اور انہوں نے تسلی دلانے کی بجائے اس خبر سے اور بھی تشویش پیدا کر دی کہ میں ابھی بٹالہ میں ایک شخص کا جنازہ پڑھ کر آیا ہوں جو اسی مرض سے فوت ہوا ہے۔