تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 3
تاریخ احمدیت۔جلدا سلسلہ احمدیہ کا تعارف قافلے نے جس طرح اللہ کے برگزیدوں اور فرستادوں کی تعلیمات کو یکسر فراموش کر دیا ہے اس کی نظیر دنیا کی تاریخ میں نہیں مل سکتی۔ہندومت، عیسائیت ، بدھ اور یہودیت کے علمبردار اس بارے میں متفق ہیں کہ خدا تعالیٰ کے احکام کو پس پشت ڈالنے کے بعد دنیا کے بسنے والے لوگ اب ضلالت و گمراہی کی اتھاہ گہرائیوں میں گر چکے ہیں، ظلمتیں مسلط ہیں اور روشنی کی کوئی کرن نظر نہیں آتی اور بالخصوص عالم اسلام آج سے نہیں اٹھارہ صدی عیسوی سے مسلسل اور پیم چیخ پکار کر رہا ہے اور مسلم قوم کی حالت زار پر نوحہ کناں ہے۔عوام سے لے کر علماء تک کے سب ہی طبقے خواہ ان کا تعلق کسی مکتب خیال سے ہو وہ خطابت کے جری ہوں یا قلم کے شہسوار، تصوف کے پرستار ہوں۔یا علم کلام کے شیدائی علماء ہوں یا سیاسی لیڈر بے نوا فقیر ہوں یا کجکلاہ بادشاہ بلا تفریق امت مرحومہ کے مرضیه خواں نظر آتے ہیں اور بزبان حال و قال کہہ رہے ہیں کہ جو تاریکی چھٹی صدی عیسوی میں جہالت نے پھیلائی تھی جبکہ اسلام کا ظہور ہو ا تھا ویسی ہی تاریکی اور ظلمت آج پھر پوری شدت سے عود کر آئی ہے۔اخلاق و تمدن معیشت و اقتصاد اور عقائد و روحانیت کا کوئی ایسا خوفناک مرض نہیں جس نے خود مسلمانوں کے قومی جسم کو مضمحل نہ کر دیا ہو۔پھر ان کے لیڈر صرف اس حقیقت ہی کا اعتراف نہیں کر رہے بلکہ ان کا اکثر و بیشتر طبقہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کسی آنے والے مامور اور فرستادہ کا بھی منتظر ہے جس طرح قحط سالی کے ایام میں نگاہیں آسمان کی طرف لگ جاتی ہیں اسی طرح مسلم قوم مدتوں سے فی الحقیقت آسمان کی پہنائیوں میں سے کسی مرسل کی آمد کے لئے چشم براہ ہے چنانچہ شاعر مشرق ڈاکٹر سر محمد اقبال نے بھی اس حقیقت کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا ہے یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے صنم کدہ ہے جہاں لا الہ الا اللہ غرض دنیا کے مشرق و مغرب اس وقت تاریکیوں کی زد میں ہیں اور کسی برقی تجلی کے انتظار میں سرگردان عجیب بات ہے کہ یہ حقیقت اس قدر واضح اور مبرہن ہو کر سامنے آگئی ہے کہ الحاد زدہ مغربی دماغ کو بھی اس کا کھلم کھلا اعتراف ہے۔یورپ کا ایک مفکر سیاح مارس انڈس جسے چند سال قبل اسلامی ملکوں کی سیاحت کا موقعہ ملا ایک مستقبل کی تلاش میں " کے عنوان پر عرب ممالک کے متعلق اپنے تاثرات بایں الفاظ بیان کرتا ہے۔۔۔۔بلاشبہ یورپ عرب کلچر کا مرہون منت ہے۔اسلامی ملکوں کی سیاحت میں میں نے عراقیوں کو یہ بات بار بار دہراتے سنا۔ہو سکتا ہے کہ یہ لوگ عرب شہنشاہی کے کارناموں کو دہرا کر پرانی عظمت و شان کو دوبارہ حاصل کرنے کا خواب دیکھ رہے ہوں۔عراقیوں کو ایسے خوابوں کی صحیح اور حسب مراد تعبیر نکلنے کی مخالفت نہ تو علم الحیات کرتا ہے اور نہ تاریخی دلائل سے ہوتی ہے لیکن ضرورت اس بات کی ہوگی کہ عرب دنیا عہد نبوی کی طرح ایک بار پھر حرکت میں