تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 169 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 169

تاریخ احمدیت جلدا 14A آریہ سماج کے خلاف جہاد 4 - حواشی ۱۸۵۷ء کے حالات پر بہت کچھ رنگ آمیزی کی گئی ہے۔لیکن بعض مستند واقعات اور قرائن سے یہ حقیقت بالکل نمایاں ہے کہ اس "انقلاب" میں بہادر شاہ ظفر اور دوسرے مسلمان محض آلہ کار بنائے گئے تھے۔دراصل اس تحریک کے اٹھانے والے ہندو تھے اور تلنگوؤں کی بغاوت کے پیچھے ہندو راج کے قیام کا منصوبہ کار فرما تھا۔چنانچہ مشہور مورخ مولاناز کاء اللہ لکھتے ہیں۔"اول حکم بادشاہ کا جو صادر ہوا وہ یہ تھا کہ گائے ذبح نہیں کی جائے گی۔9 جولائی کو ڈھنڈورا پٹوایا کہ جو گائے ذبح کرے گا وہ توپ کے منہ سے اڑایا جائے گا۔بقر عید کو گائے کی قربانی منع کی گئی۔اگر بادشاہ کو اختیار ہو نا تو وہ کیوں ہندو راجہ کے سے احکام دیتا مگر تلنگوں کے ہاتھ سے مجبور تھا جو اس نے اپنی مرضی اور مذہب کے خلاف یہ حکم دیئے مسلمانوں کو یہ بادشاہی احکام ناگوار گزرے اور انہوں نے کہا یہ اسلام کی بادشاہی نہیں یہ تو ہندوؤں کا راج ہے۔مسلمانوں نے ایک دفعہ اپنا محمد کی جھنڈا ہندووں پر جہاد کے لئے لگایا۔دوسری دفعہ مولوی محمد سعید نے جامع مسجد میں یہ جھنڈا کھڑا کیا تو بادشاہ نے ان سے کہا کہ یہ کس کے لئے ہے۔انگریز تو شہر میں باقی نہیں۔تو انہوں نے کہا کہ ہندوؤں کے لئے لگایا ہے۔بادشاہ نے ان کو یہ سمجھا کر اس جھنڈے کو اکھڑوا دیا کہ سارے تلنگے ہندو ہیں ان سے بے چارے مسلمان کیا لڑیں گے " ( تاریخ عروج عهد سلطنت انگلشیہ ہند صفحه ۶۷۰ مطبوعه ۱۳۲۲ھ / ۱۹۰۴ء مشمس المطابع دہلی) اس غرض کی تکمیل کے لئے سوامی دیانند نے ستیارتھ پرکاش " جیسی رسوائے عالم کتاب لکھی۔تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو سوامی دیانند اور ان کی تعلیم " مرتبہ مولانا خواجہ غلام الحسنین پانی پتی مطبوعہ ۱۹۳۲ء شائع کرده اور نینٹل پبلک لائبریری پانی پت - صفحہ ۱۲۲٬۱۱۹ ۲۹۶۲۹۱۷۷۱۷۵- نام "لا کف آن احمد " صفحہ 1 تبلیغ رسالت جلد اول صفحہ ۲۱ مرتبہ حضرت میر قاسم علی صاحب مطبوعہ اپریل ۱۹۱۸ ء اسی دوران میں حضور نے آریہ سماجی عقیدہ کو باطل ثابت کرنے کے لئے ایک نظم بھی لکھی تھی جو منشور محمدی میں شائع ہوئی (ملاحظہ ہو الحکم ۷ تا ۲۸۔مئی ۱۹۴۲ء صفحه ۴) حیات النبی جلد اول نمبر ۲ صفحه ۱۱۳ و تبلیغ رسالت جلد اول صفحه ۸ -۷ پرانی تحریریں صفحہ ۲۷ تا نے ۱۳ طبع سوم بیڈ پر تالیف و اشاعت قادیان دسمبر ۱۹۲۵ء) و تبلیغ رسالت جلد اول صفحه ۲ تا ۶ ايضا و مکتوبات احمد یہ جلد دوم نمبر ۳ مجدد اعظم " جلد اول صفحہ ۸۲ پر لکھا ہے کہ " سردار سنت سنگھ صاحب مسلمان ہو کر عبدالرحمن بن چکے اور ان کی بیوی بھی مسلمان ہو چکیں۔ادھر حضرت مرزا صاحب کے مضامین نے اخبارات میں دھوم مچارکھی تھی اور آریہ سماج کے دھرے بکھیر دیئے تھے تو قادیان کے آریوں نے پنڈت کھڑک سنگھ کو حضرت مرزا صاحب سے مبالے کے لئے بلایا۔ان الفاظ میں سردار سنت سنگھ کے قبول اسلام کے واقعہ کو پنڈت کھڑک سنگھ کی آمد کی ایک وجہ بتایا گیا ہے جو تاریخی لحاظ سے غلط ہے۔کیونکہ اسی صفحہ پر قبول اسلام کی معین تاریخ ۲۳ جمادی الاولی ۱۳۰۱ھ درج ہے جو سمسی حساب کے مطابق ۲۲ فروری ۱۸۸۴ء بنتی ہے التوفیقات الالہامیہ ) پس فروری ۱۸۸۴ء کا واقعہ ۱۸۷۸ء کی کسی دعوت و تحریک کا موجب کیسے قرار دیا جا سکتا ہے۔؟؟ مکتوبات احمد جلد دوم صفحه ۴۱ تا ۴۷ شحنه حق صفحه ۲۴۰ طبع اول ریاض ہند پریس امرتسر ۱۸۸۸ء حیات احمد جلد اول نمبر ۳ صفحه ۲۳۵٬۲۱۹٬۲۱۵٬۲۱۲ تا ۲۴۰ - مکتوبات احمد یہ جلد دوم نمبر ۲ صفحه ۷۱٬۵۹۴٬۵۳٬۴۴۱ ۷۵ ۷۸۴ حیات احمر صفحه ۲۴۰٬۲۳۸٬۲۳۶ شحنه حق صفحه ۲۴ پرانی تحریریں صفحہ ۱ تا ۱۴ حیات النبی صفحہ ۱۲۰ ۱۲۲ ۱۳۱۴۱۲۳ تبلیغ رسالت صفحه ۶۰۲ ۱۳ متن میں وسموا چھوٹ گئی ہے۔مرتب)