تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 168 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 168

تاریخ احمدیت۔جلدا 146 آریہ سماج کے خلاف جہاد اس وقت کہ آریا اور مسیحی مبلغ اسلام پر بے پناہ حملے کر رہے تھے۔اکے دکے جو عالم دین بھی کہیں موجود تھے۔وہ ناموس شریعت حقہ کے تحفظ میں مصروف ہو گئے مگر کوئی زیادہ کامیاب نہ ہوا۔اس وقت مرزا غلام احمد صاحب میدان میں اترے۔اور انہوں نے مسیحی پادریوں اور آریا اپدیشکوں کے مقابلہ میں اسلام کی طرف سے سینہ سپر ہونے کا تہیہ کر لیا۔میں مرزا صاحب کے ادعائے نبوت وغیرہ کی قلعی کھول چکا ہوں لیکن بقولیکه ع عیب دی جملہ بگفتی ہنرش نیز بگو۔مجھے یہ کہنے میں ذرا باک نہیں۔کہ مرزا صاحب نے اس فرض کو نہایت خوش اسلوبی سے ادا کیا اور مخالفین اسلام کے دانت کھٹے کر دیے۔"اسلام کے متعلق ان کے بعض مضامین لاجواب ہیں اور میں کہ سکتا ہوں کہ اگر مرزا صاحب اپنی کامیابی سے متاثر ہو کر نبوت کا دعوی نہ کرتے تو ہم انہیں زمانہ حال میں مسلمانوں کا سب سے بڑا خادم مانتے۔لیکن افسوس ہے کہ جس کی ابتداء اچھی تھی انتہا ء وہ نہ رہی جو ہونا چاہئے تھی۔مسلمان ایک ایسی قوم ہے جو اپنے خدام کی قدر کرتی ہے۔عیسائیوں اور آریاؤں کے مقابلہ میں مرزا صاحب کی خدمات کی وجہ سے مسلمانوں نے انہیں سر پر بٹھایا اور دلوں میں جگہ دی۔مولانا محمد حسین بٹالوی مرحوم اور مولانا ثناء اللہ امرتسری جیسے بزرگ ان کے حامی اور معترف تھے اور ان ہی کے نام کا ڈنکا بجاتے تھے۔غرض مرزا صاحب کی کامیابی کی پہلی وجہ یہ ہے کہ یہ ایسے زمانہ میں پیدا ہوئے جبکہ جہالت مسلمانوں پر قابض تھی اور اسلام مسیحی اور آریہ مبلغین کے طعن و تشنیع کا مور د بنا ہوا تھا۔مرزا صاحب نے اس حالت سے فائدہ اٹھایا اور مسلمانوں کی طرف سے سینہ سپر ہو کر اغیار کا مقابلہ کیا"۔