تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 167
تاریخ احمدیت۔جلدا 194 آریہ سماج کے خلاف جہاد جاتے تھے۔اور غداری کا داغ جو ان کے لئے بے حد پریشان کن تھا۔وہ بپتسمہ کے پانی کے ساتھ ان کی پیشانی سے دھل جاتا تھا۔یہ ترغیبات کچھ معمولی نہ تھیں۔زر ، حکومت اور ثروت کی ترغیب سے اگر کسی اور دین کا واسطہ پڑتا تو مٹ جاتا۔یہ اسلام ہی کا کام تھا کہ وہ اس بے پناہ حملہ سے محفوظ رہا۔و الحمد لله علی ذالک عیسائیوں کے ان حملوں سے ہندو بھی محفوظ نہ تھے۔لیکن اول تو وہ جدید تعلیم حاصل کر کے پرانی جہالت کے ازالہ میں مصروف ہو گئے تھے۔دوسرے ان کے پاس تجارت اور دولت موجود تھی۔لہذا یہ نہ قلاش و مفلس تھے نہ بے روزگار۔تیسرے یہ حکومت کے عتاب سے محفوظ تھے۔بلکہ یوں کہئے کہ اس کے لطف کا نشانہ بنے ہوئے تھے۔لہذا انہیں وہ خطرات درپیش نہ تھے جو مسلمانوں کے لئے مخصوص ہو چکے تھے۔مسلمانوں کو بہکانے کے لئے عیسائیوں نے دین حقہ اسلام اور اس کے بانی پر بے پناہ حملے شروع کر دیے جن کا جواب دینے والا کوئی نہ تھا۔آخر زمانہ نے تین آدمی ان کے مقابلہ کے لئے پیدا کئے۔ہندوؤں میں سے سوامی شری دیانند جی مہاراج نے جنم لے کر آریہ دھرم کی بنیاد ڈالی اور عیسائی حملہ آوروں کا مقابلہ شروع کیا مسلمانوں میں سرسید علیہ الرحمہ نے سپر سنبھالی اور ان کے بعد مرزا غلام احمد صاحب اس میدان میں اترے۔سرسید احمد علیہ الرحمہ نے مسلمانوں کے سر سے غداری کا الزام دور کرنے کی کوشش کی اور انہیں تعلیم جدید کی طرف متوجہ کیا اور ساتھ ہی مسیحیوں کے حملوں کا جواب دے کر شریعت حقہ کی حمایت کرنے لگے۔غدر کا الزام آج تک مسلمانوں کے سر پر موجود ہے۔البتہ جدید تعلیم کی ترویج میں سرسید کو غیر معمولی کامیابی ہوئی۔ان کی سیاسی رہنمائی بھی صحیح ثابت ہوئی اور مسلمان ایک عرصہ تک اس رہنمائی سے روگردانی کرنے کے بعد آج پھر لاچار ہو کر انہی کے اصولوں کو اختیار کر کے کامیاب ہو رہے ہیں۔مذہبی جملوں کا جواب دینے میں البتہ سرسید کامیاب نہیں ہوئے۔اس لئے کہ انہوں نے ہر معجزے سے انکار کیا اور ہر مسئلہ کو بزعم خود عقل انسانی کے مطابق ثابت کرنے کی کوشش کی۔نتیجہ یہ ہوا کہ ہندوستان میں بچے کھچے جو علماء بھی موجود تھے ان میں اور سرسید میں ٹھن گئی۔کفر کے فتوے شائع ہوئے اور بہت غلاظت اچھلی نتیجہ یہ نکلا کہ مسیحی پرو پیگنڈہ زور پکڑ گیا اور علی گڑھ کالج مسلمانوں کی بجائے ایک قسم کے محمد پیدا کر نے لگا۔یہ لوگ محض اتفاقی پیدائش کی وجہ سے مسلمان ہوتے تھے ور نہ انہیں اسلام پر کوئی اعتقاد نہ ہو تا تھا۔۔۔۔