تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 166
تاریخ احمدیت جلدا 140 آریہ سماج کے خلاف جہاد غزنوی رحمتہ اللہ علیہ کا زمانہ وفات قریب ہے آنکھ کھلنے کے بعد آپ نے محسوس کیا کہ ایک آسمانی کشش آپ کے اندر کام کر رہی ہے۔یہاں تک کہ وحی الہی کا سلسلہ جاری ہو گیا اور پھر ایک ہی رات میں آپ کے اندر بے مثال روحانی انقلاب برپا ہو گیا چنانچہ خود فرماتے ہیں: وہی ایک رات تھی جس میں اللہ تعالٰی نے تمام و کمال میری اصلاح کر دی اور مجھ میں ایک ایسی تبدیلی واقع ہو گئی جو انسان کے ہاتھ سے یا انسان کے ارادے سے نہیں ہو سکتی تھی"۔۲۵ اس دور کی حضرت مسیح موعود علیہ اس دور کی شاندار اسلامی خدمات کا اعتراف الصلوة والسلام کی اسلامی خدمات عیسائیت ، آریہ سماج اور برہمو سماج کے ابطال میں اتنی بلند پایہ رفع القدر اور شاندار تھیں کہ آج تک غیر از جماعت مسلم لیڈر بھی ان کا کھلا اعتراف کر رہے ہیں۔مثلاً سید حبیب صاحب سابق مدیر "سیاست" تحریک قادیان" میں لکھتے ہیں: ندر ۱۸۵۷ء کی تمام ذمہ داری بے جا طور پر مسلمانوں کے سرمنڈھ دی گئی۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ارباب حکومت کے دلوں میں مسلمانوں کی طرف سے بغض پیدا ہو گیا ادھر مسلمانوں کے علماء نے حکومت انگلشیہ سے ہر قسم کے تعاون کو گناہ قرار دے کر اعلان کر دیا کہ ہندوستان دارالحرب ہے۔نیز بین الاقوامی معاملات نے بھی ایسی صورت اختیار کرلی کہ مسلمانوں اور انگریزوں کے تعلقات اچھے نہ رہے۔مسلمانوں نے علماء کے فتاری کے باعث انگریزی مدارس سے جو تعلیم کی روشنی کو واپس لانے والے تھے ، اجتناب کیا۔مساجد اجڑی پڑی تھیں۔مکاتب کا نشان مٹ چکا تھا۔صوفیاء کے تکیئے حدیث شریف و قرآن مجید کے مسائل کی جگہ بھنگ نواز دوستوں کی گپ باز می کا مرکز بن چکے تھے۔غرض حالت یہ تھی کہ مسلمان حکام وقت کا چور بنا ہوا تھا۔حکومت اس کے ہاتھوں سے چھن چکی تھی۔تجارت سے اس کو دور کا بھی واسطہ نہ تھا۔تعلیم اس کے ہاں سے غائب ہو چکی تھی۔اور جاہل ماں باپ، جاہل تر اولاد پیدا کر رہے تھے۔بے کاری ، مفلسی اور حکومت کے عتاب نے مسلمانوں کو ایک قابل نفرت چیز بنا دیا تھا۔مسیحی پادری ہمیشہ تسلیم کرتے رہے ہیں کہ دنیا میں ان کے عقائد کے لئے اگر کوئی خطرہ موجود ہے تو اس کا نام اسلام ہے۔وہ اسلام کو مٹانے اور مسلمانوں کو بہکانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔انہوں نے اس وقت کو غنیمت اور اس موقعہ کو بے حد مناسب جان کر مسلمانوں کو بہکانے کے لئے ایک عالمگیر جد و جہد شروع کی جس کا سلسلہ ۱۸۶۰ء سے لے کر ۱۹۰۳ء کے بعد تک بڑے زور و شور سے قائم رہا۔بے کار مسلمان مسیحی ہو کر روزگار حاصل کر لیتے تھے۔تلاش مسلمان مالی لحاظ سے بہتر حالت میں ہو