تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 164 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 164

تاریخ احمدیت جلدا 147 آریہ سماج کے خلاف جہاد حضرت مسیح موعود کے زبر دست مضامین کے باعث) دیدوں سے در پردہ محرف ہو گئے تھے تو وہ میدان مناظرہ میں قدم رکھنے کی جرات ہی کیسے کر سکتے تھے۔؟؟ آریہ سماج کے بعد برہمو سماج سے تحریری مباحثہ آریہ سماج کے قیام سے پچپن برس پیشتر مشہور ہندو لیڈر راجہ رام موہن رائے نے پر ہمو سماج کے نام سے ایک جدید مذہب اختراع کیا جس کی تمام تر بنیاد عقل کی قیادت اور الہام کے انکار پر تھی راجہ رام موہن رائے کے بعد بر ہمو سماج تحریک متعدد شاخوں میں منقسم ہو گئی۔اور ابتداء میں ان کے لیڈر مرشی و بند رو ناتھ ٹیگور ، بابو کیشب چندرسین اور غالیا با یوراج نرائن بوس بنے۔پنجاب میں بر ہمو سماج کے مشہور اور سرگرم پر چارک پنڈت نرائن اگنی ہوتری تھے۔جن کے اخبار ” ہندو باند ھو " کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آریہ سماج کے مقابلہ کے لئے منتخب فرمایا تھا۔اور جس میں پنڈت صاحب موصوف نے ثالث کی حیثیت سے آریہ سماج کے مقابل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دلائل کی برتری کا کھلے لفظوں میں اعتراف کیا تھا۔اب جو آریہ سماجی لیڈر چاروں شانے چت گر چکے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا خود پنڈت اگنی ہوتری سے ضرورت الہام کے متعلق پرائیویٹ تحریری مباحثہ شروع ہو گیا۔جو ۲۱ - مئی ۱۸۷۹ء سے ۱۷- جون ۱۸۷۹ء تک جاری رہا۔دوران مباحثہ میں پنڈت صاحب نے لکھا کہ اس پرائیویٹ گفتگو کو اخبار میں شائع کرنا شروع کر دیا جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس سے اتفاق رائے کرتے ہوئے یہ تجویز پیش فرمائی کہ ایک فاضل نامی گرامی بر ہمو سماجی مثلاً مسٹر کیشپ چند رسین اور ایک انگریز کو بطور ثالث نامزد کر کے ان کی رائے بھی شامل اشاعت کی جائے جو محض اس قدر فیصلہ پر اکتفانہ کریں کہ ہماری رائے میں یہ ہے یادہ ہے بلکہ ہر ایک فریق کی دلیل اپنے بیان سے توڑیں یا بحال رکھیں تا قارئین کو اصل نتیجہ تک پہنچنے میں آسانی ہو۔پنڈت شو نرائن کو جب یہ تجویز پہنچی تو وہ سنائے میں آگئے۔اور بار جو دیکہ حضرت اقدس نے ثاثوں میں برہمو سماجی لیڈر اور ایک غیر جانبدار انگریز رکھا تھا اور کسی مسلمان کو اس میں شامل نہیں کیا تھا بلکہ ان کی نامزدگی کا معاملہ بھی انہی پر چھوڑا تھا۔مگر انہوں نے یہ معقول اور سراسر مفید تجویز تسلیم کرنے کی بجائے صرف گذشتہ خط و کتابت ہی شائع کر کے بالکل سکوت اختیار کر لیا۔پھر آٹھ سال گزرے تو ۱۶- فروری ۱۸۸۷ء کو برہمو سماج کو خیر باد کہہ دیا اور ایک تیسرا فرقہ دیو سماج " نامی قائم کر لیا۔پہلے تو وہ فقط ضرورت الہام کے قائل نہیں تھے۔اب حق و صداقت کے مقابلہ کا عبرت ناک انجام یہ ہوا کہ " مہامانیہ پوجنیه بر شری دیو گورد بھگوان بن کر خدا کے بھی منکر ہو گئے " - 1 31