تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 163 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 163

تاریخ احمدیت جلد 197 آریہ سماج کے خلاف جہاد پر یقین کرنے کو مستعد ہیں یا نہیں "۔سوامی دیانند جی نے اعتراف حقیقت کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مباحثہ کی دعوت دی جسے حضرت اقدس نے ۱۰ جون ۱۸۷۸ء کو بلا تامل منظور فرمالیا اور سوامی جی کو یہ اختیار دیا کہ وہ مباحثہ کے مقام و تاریخ خود ہی معین کر کے اخبار میں اعلان کر دیں۔لیکن سوامی دیانند جنہوں نے پہلے از خود دعوت دی تھی خود ہی میدان مباحثہ سے گریز کر گئے۔ایک آریہ سماجی مصنف کا بیان ایک آریہ سماجی اپنی کتاب " آریہ سماج اور پر چار کے سادھنا میں اس فرار کی ایک فرضی وجہ بیان کرتے اور آریہ سماجی تحریک کے خوفناک اثرات کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے: اجمیر سے چل کر سوامی دیانند چاند پور پہنچے اور مسلمانوں سے زبر دست مناظرہ کیا۔مسلمانوں کی طرف سے مولوی محمد قاسم صاحب اور مولوی عبد المنصور صاحب پیش ہوئے اور ان کی مدد کے لئے بہت سے مولوی جمع تھے۔لیکن سوامی جی مہاراج کے ساتھ صرف منشی بختاور سنگھ اور منشی اندرمن مراد آبادی تھے۔سوامی جی نے اعتراضات کی اس قدر بھر مار کی کہ مولوی ان کا کوئی جواب نہ دے سکے اور میدان چھوڑ کر بھاگ گئے۔جس کا یہ اثر ہوا کہ مولوی نور اللہ صاحب کئی مسلمانوں کے سمیت آریہ ہو گئے۔انہی ایام میں ایک ہزار کے قریب اور مسلمان بھی آریہ ہو گئے۔آریہ ویروں نے جگہ جگہ شدھی سبھا قائم کر کے مسلمانوں میں پر چار کرنا شروع کر دیا۔اگر آریہ سماجی دوست اس پو تر کام کو جاری رکھتے تو مسلمانوں کا ایک کثیر حصہ ویدک دھرم کی شرن میں آجاتا۔لیکن آریہ سماج کے اندرونی اختلافات کی وجہ سے مرزا غلام احمد قادیانی کو موقع مل گیا۔اس نے آریہ سماج کے خلاف سفیر ہند امرت سر میں مضامین کا ایک لمبا سلسلہ شروع کیا اور اس میں سوامی دیانند جی مہاراج کو بھی چیلنج دیا۔چونکہ سوامی دیانند جی مہاراج ان دنوں راجستھان کا دورہ کر رہے تھے۔اس لئے انہوں نے بختاور سنگھ اور منشی اند ر من مراد آبادی سے کہا کہ وہ ان کا چیلنج منظور کرلیں۔لیکن افسوس ہے کہ انہی ایام میں بعض وجوہ کی بناء پر سوامی جی نے اندر من مراد آبادی کو آریہ سماج سے نکال دیا۔اس لئے یہ مناظرہ نہ ہو سکا۔مرزا غلام احمد نے اس اور گھٹنا سے پورا پورا فائدہ اٹھایا اور آریوں کے خلاف ایساز ہر بلا لٹریچر لکھا کہ جس نے مسلمانوں کے دلوں میں آریہ دھرم کے متعلق سخت نفرت پیدا کر دی۔حقیقت یہ ہے کہ یہ توجیہہ محض سوامی جی کے فرار پر پردہ ڈالنے کے لئے ہے۔رسالہ جیون دھرم (۱۵- جولائی ۱۸۸۶ء) لکھتا ہے کہ "پنڈت دیا نند صاحب جاتے وقت اشاروں کنایوں سے بعض معزز برہمو صاحبوں کو سمجھا گئے تھے کہ اب میرا ایمان دیدوں پر نہیں رہا۔پس جب سوامی صاحب