تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 162 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 162

تاریخ احمدیت جلدا 191 آریہ سماج کے خلاف جہاد محتاج ہونا پڑے جس کو عقل کہتے ہیں۔چہارم : سوامی جی کے اس برتاؤ سے کہ جس میں وہ اپنے کسی یقین کے غلط ثابت ہونے پر اس کو چھوڑ صحیح یا راست امر کی طرف رجوع کرتے ہوئے معلوم ہوتے رہے ہیں۔ان کی اس عمدہ خوبی کا بھی اظہار ہوتا ہے کہ ان میں انصاف پسندی کی عادت پائی جاتی ہے۔چنانچہ یہ ایک مذکورہ بالا حرف اول ہے مثال نہیں ہے جس میں انہوں نے اپنے یقین کو تبدیل کیا ہے بلکہ اس سے پہلے بارہا ایسا کر چکے ہیں۔چند سال ہوے کان پور میں جب انہوں نے ایک اشتہار اپنا دستخطی مشتہر کیا تھا تو اس میں انہوں نے اول اول اکیس شاستروں کو ایشر کرت" (خدا کے اپنے تصنیف کئے ہوئے) قرار دیا تھا۔پھر رفتہ رفتہ جب انہوں نے ان میں بہت سی خرابیاں دیکھیں تو سب کو چھوڑ چھاڑ صرف چار ویدوں کو ایشر کرت" بتلانے لگے۔پھر اس کے بعد جب ویدوں کا ایک حصہ جس کو برہمن کہتے ہیں ان کی نظروں میں صحیح ثابت نہیں ہوا تو اب صرف اس کے اس حصہ کو جس کو منتر بھاگ کہتے ہیں، الہامی کہتے ہیں۔اس سے اگر چہ ان کی کسی قدر متلون مزاجی بھی ظاہر ہوتی ہے مگر ساتھ ہی اس کے طبیعت میں راستی پسندی کا بھی ثبوت پایا جاتا ہے۔ہاں اس میں صرف ایک بہت بڑی کسر یہ باقی ہے کہ وہ اول ایک چیز کی نسبت پہلے سے ایک یقین پیدا کر لیتے ہیں۔پھر جب کبھی حسب اتفاق اس یقین کا بطلان انہیں معلوم ہو جاتا ہے تب اس کو چھوڑتے ہیں۔مگر اس قسم کی تحقیقات کے محققوں کے اصول تحقیقات سے بالکل مخالف ہے۔کیونکہ جب تم نے پہلے ہی ایک قسم کا یقین اپنے دل میں قائم کر لیا تو پھر اس میں خواہ مخواہ تمہاری طبیعت کا یہ مقتضی ہو جاتا ہے کہ اس کے بارے میں تم جو کچھ سوچتے ہو رہ زیادہ تر وہی ہوتا ہے جو تمہاری طبیعت کے موافق ہو کر تمہارے پہلے قائم کئے ہوئے یقین کی اعانت کرتا ہے۔پس اگر وہ یقین غلط قائم ہو گیا ہے تو اس سے نکلنا ایک دفعہ نہایت مشکل بلکہ عنقریب ناممکن ہو جاتا ہے۔پس اگر سوامی جی واقعی اپنے تئیں ایک بچے محقق کی مثال بنانا چاہتے ہیں تو ان کو چاہئے کہ وہ پیشتر اس کے کہ تحقیقات ختم ہو کسی چیز کے موافق یا نا موافق یقین پہلے ہی سے پیدانہ کرلیں۔بلکہ ثالث بالخیر ہو کر مثل ایک بچے (محقق کے) جب مقدمہ کی کل تحقیقات ختم ہو جائے تب فیصلہ کو دخل دیں۔کاش کہ ہمارے فاضل سوامی جی اب بھی دیدوں کے منتر بھاگ کو پہلے سے ہی الہامی ماننے سے گریز کریں۔اور بعد تحقیقات کامل کے کہ جو انیسویں صدی میں چنداں مشکل نہیں ہے پھر حسب نتیجہ اپنی رائے کو قائم کریں۔نیز اب ہم یہ جانا چاہتے ہیں کہ امرت سر آریہ سماج کے لائق سیکرٹری باد انرائن سنگھ صاحب اور نیز ان کے دیگر دید بھائیوں نے پہلے جس زورو شور کے ساتھ سوامی جی کی ہدایت کے موافق ارواح کے بے انت ہونے کا دم بھرتے تھے اسی سرگرمی اور شدومد کے ساتھ وہ اپنے پہلے یقین کے بر عکس سوامی جی کے پچھلے اقرار کے موافق ارواح کے بے انت ہونے کے مسئلہ