تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 161 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 161

تاریخ احمدیت۔جلدا آریہ سماج کے خلاف جہاد کرنے والا نہیں ہے۔اور جب سے خدا ہے تب ہی سے ارواح بھی ہیں۔یعنی وہ انادی ہیں اور نیز خدا کو ارواح کی تعداد کا علم نہیں ہے ماسوائے کسی روح کو نجات ابدی حاصل نہیں ہوتی اور وہ ہمیشہ تاریخ یعنی اواگون کے سلسلہ میں جتلا رہتی ہے۔ہم اگر چہ ان میں سے کسی مسئلہ کے قائل نہیں ہیں اور حقیقت کے مخالف ہونے کے باعث ان کو محض بے ہودہ اور لغو خیال کرتے ہیں تاہم اس رنج طبعی سے بھی ہم اپنے آپ کو بری نہیں دیکھتے کہ ہمارے بہت سے ہم وطن باوجود علم و عقل رکھنے کے پھر ان کے فیض سے فیض یاب نہیں ہوتے۔اور مثل ایسے لوگوں کے جن کے دماغ علم و عقل سے خالی ہیں محض تقلید کی غلامی کرتے ہیں۔باوجو د دولت رکھنے کے پھر اس کو کام میں نہیں لاتے اور مفلسانہ زندگی بسر کرتے ہیں۔باوجود سو جا کے ہونے کے آفتاب نیمروز کی روشنی میں بھی اندھوں کی طرح حرکت کرتے ہیں۔ابھی تک آریہ سماج والے ارواح کے بے انت ہونے کا یقین کرتے رہے ہیں۔اور بائیں خیال کہ اس مسئلہ کو بھی مثل اور مسئلوں کے سوامی جی نے انہیں وید کی ہدایت کے موافق بتلایا تھا اس پر نہایت مضبوطی کے ساتھ دعوی کرتے رہے ہیں۔مگر اب ہمارے مضمون نگار مرزا غلام احمد صاحب کی تحریر سے معلوم ہوتا ہے کہ آخر کار جب مرزا صاحب نے مسئلہ مذکور اپنی بحث میں باطل ثابت کر دیا تو لا چار سوامی جی نے مرزا صاحب کو یہ پیغام بھیجا کہ حقیقت میں ارواح بے انت نہیں ہیں۔لیکن تاریخ صحیح ہے خیر کچھ ہی ہو۔مگر اس موقعہ پر ہم اپنے ناظرین پر یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ سوامی جی کے اس اقرار سے چار باتیں ان پر صادق آتی ہیں۔اول جب کہ وہ وید کی ہدایت کے موافق آریہ سماج میں اپنے مقلدوں کو یہ یقین دلا چکے تھے کہ ارواح انادی اور لا انتہاء ہیں۔پھر اس کے خلاف اس مسئلہ کے باطل ثابت ہونے پر یہ اقرار کرنا کہ ارواح حقیقت میں بے انت نہیں ہیں۔صاف دلالت کرتا ہے کہ جس کتاب کی ہدایتوں کو وہ خدا کا کلام یقین کرتے ہیں اس کے مخالف انہوں نے اپنا یقین ظاہر کیا۔دوم- اگر یہ پایا جاوے کہ در حقیقت دید میں ہی لکھا ہے کہ جو انہوں نے پیچھے سے اپنا یقین ظاہر کیا ہے تو پھر اس سے یہ ضرور لازم آتا ہے۔کہ ان میں خود دید کے سمجھنے کے لئے بہت بڑی لیاقت موجود ہے اور نیز دیدوں کے سمجھانے کا بھی خوب ملکہ حاصل ہے یعنی ایک وقت میں دید سے جس قسم کی ہدایت ظاہر کی جاتی ہے دوسرے وقت حسب موقعہ ٹھیک اس کے برعکس بھی بتلائی جا سکتی ہے۔سوم : اگر فی الواقع یہ مسئلہ ہی دید میں موجود نہیں ہے اور سوامی جی نے صرف اپنی رائے کے موافق ہی اپنے مقلدوں کو بتلایا تھا۔تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سوامی جی کا یہ دید عجیب ہے کہ جس میں ریلوے اور تار برقی کے علوم تک کا تو ذکر ہو۔مگر خاص دھرم کے متعلق جو مسائل ہیں ان کا کچھ بیان نہ ہو۔اور باوجود وید کے مقلد رہنے کے ان کو پھر اسی بچے دید کی ہدایت کا