تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 155
تاریخ احمدیت جلدا ۱۵۴ آریہ سماج کے خلاف جہاد اشتہار سے لوگوں کو یہ مغالطہ پیدا ہو تا تھا کہ آریہ سماج والے سوامی دیانند صاحب کے پیرو اور تابع ہیں حالا نکہ یہ بات نہیں اس لئے بغرض اشتباہ اور مغالطہ مذکور کے یہ تحریر عمل میں آئی " لاہور آریہ کاج نے تو دہشت زدہ ہو کر باد انارائن سنگھ صاحب میدان مقابلہ میں معرکہ حق وباطل میں ابتداء ہی میں اپنے ہاتھ سے شکست کے دستخط کر دیئے لیکن امرت سر آریہ سماج کے پر جوش سیکرٹری بادا نارائن سنگھ صاحب نے پہلے تو اخبار آفتاب مورخہ ۱۸- فروری ۱۸۷۸ء کے کالموں کے کالم سیاہ کئے اور روحوں کے انادی ہونے پر عجیب و غریب دلائل دیتے ہوئے تان اس پر توڑی کہ کیا تردید کرتا ہے یہ تو توہمات ہیں۔اور اس کے بعد اخبار سفیر ہند مورخہ ۲۳ فروری ۱۸۷۸ء کے مباحثہ سے فرار ہونے کے لئے عجیب در عجیب موشگافیاں کیں۔مثلاً لکھا کہ اشتہار میں انعام کی بجائے جرمانہ کا لفظ لکھا جائے۔اور اشتہار کی ایک نقل آپ کے دستخطوں سے انہیں دی جائے۔اپنے فاتح ہونے پر پیشگی اعتماد کرانے کے لئے کہا کہ روپیہ کی وصولی کی تسلی بخش صورت تجویز ہونی چاہئے تا ان کے کامیاب ہونے کی صورت میں وہ انعام غت ربود نہ ہو جائے۔بار انار ائن صاحب نے جواب کا جائزہ لینے کے لئے از خود ایک بورڈ بھی تجویز کر لیا۔جس کے ممبر سرسید احمد خان مرحوم فش کنہیالال صاحب اور منشی اندر من صاحب مراد آبادی نامزد کئے۔کوئی دوسرا شخص ہوتا تو باد انرائن سنگھ صاحب کی الٹی سیدھی توجیہات کو ناقابل تم قرار دے کر بحث مباحثہ سے انکار کر دیتا اور ایسا کرنا بالکل معقول ہوتا۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام چونکہ باطل کا سر کچلنے کا مصمم ارادہ فرما چکے تھے اور چاہتے تھے کہ آریہ سماج پر ہر طرح سے اتمام حجت کر دی جائے اس لئے آپ نے باد صاحب کے جواب الجواب کا دندان شکن جواب دیا بلکہ آئندہ مباحثہ پر آمادگی کے لئے ان کی ہر شرط سے رضامندی کا اعلان فرما دیا۔انعام کے لفظ کی معقولیت کو مسکت دلائل سے ثابت کرنے کے باوجود اسے جرمانہ میں بدل دیا۔اشتہار کو باقاعدہ انتشام کے اقرار نامہ کی صورت دینے پر بھی صاد کر لیا۔روپیہ کی وصولی کے لئے یہ صاف طریق رکھا کہ بادا صاحب اپنا ایک نمائندہ بٹالہ بھیج کر جائزہ لیں کہ ہزاروں روپیہ کی مالیت کی جائیدادوہاں موجود بھی ہے یا نہیں ؟ مجوزہ بورڈ کے نامزد ممبروں کو خوشی سے قبول کرتے ہوئے تین اور ناموں کا اضافہ کیا اور اس اضافہ میں یہاں تک فراخدلی کا ثبوت دیا کہ حکیم محمد شریف صاحب امرت سری اور مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب بٹالوی کے علاوہ خود سوامی دیانند سرسوتی کا نام بھی بورڈ کے ممبروں میں شامل کر دیا۔جو اس پوری بحث میں سب سے بڑے حریف اور مد مقابل تھے۔جو آپ کی زبر دست روحانی قوت اور فاتحانہ شان کا نا قابل تردید ثبوت تھا۔