تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 154 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 154

تاریخ احمدیت جلدا ۱۵۳ آریہ سماج کے خلاف جہاد ہو گئی۔خود سوامی دیانند جی نے ۱۸۷۷ ء میں صوبہ پنجاب کے متعدد مشہور اصلاح کا ایک طوفانی دورہ کیا۔مباحثات کئے اور لٹریچر تقسیم کیا۔جس کے نتیجہ میں اسی سال لاہور امرت سر اور راولپنڈی میں آریہ سماج کی مضبوط شاخیں قائم ہو گئیں۔اسلام کے خلاف ایک بے پناہ طاقت پہلے ہی نبرد آزما تھی۔اب اس میں آریہ سماج کی فتنہ سامانیوں کا بھی اضافہ ہو گیا۔اور نہتے اور بے کس مسلمان بیرونی اور اندرونی دونوں قسم کے فتنوں سے گھر گئے۔لیکن پنجاب میں آریہ سماج کی زہریلی کچلیوں نے سر نکالا ہی تھا کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ الصلوۃ والسلام جو " منشور محمدی" بنگلور اور دوسرے ملکی اخبارات کے ذریعہ سے پہلے ہی قلمی جنگ میں مصروف تھے۔میدان جہاد میں کود پڑے۔اور دلائل و براہین کی شمشیر برہنہ سے باطل کا سرباش پاش کر دیا۔اور نہ صرف پنجاب کی آریہ سماج کے بلیدانوں نے شیر اسلام کی ایک ہی للکار سے دہشت زدہ ہو کر ہتھیار ڈال دیئے۔بلکہ خود سوامی دیانند جی مہاراج پر بھی سکوت مرگ طاری ہو گیا۔اور اسلام کو حضور کے ہاتھوں مسلسل فتوحات نصیب ہو ئیں۔واقعہ یوں ہوا کہ ۷۔دسمبر۱۸۷۷ء کے آریہ سماجی لیڈر کا روح کے متعلق اعلان "" وکیل ہندوستان" وغیرہ اخبارات میں آریہ سماجی لیڈر سوامی دیانند نے روح کے متعلق اپنا یہ عقیدہ شائع کیا کہ : ارواح موجودہ بے انت ہیں اور اس کثرت سے ہیں کہ پر میٹر کو بھی ان کی تعداد معلوم نہیں۔اس واسطے ہمیشہ مکتی پاتے رہتے اور پاتے رہیں گے مگر کبھی ختم نہیں ہو دیں گے "۔حضرت مسیح موعود کا انعامی چیلنج اس باطل عقیدے کا پبلک میں آنا ہی تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے خالق کی یہ شرمناک تو ہین اور اہانت دیکھ کر دیوانہ دار آگے بڑھے اور سفیر ہند (۹- فروری تا ۹ مارچ ۱۸۷۸ء) میں اس کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے ایک زبر دست سلسلہ مضامین شروع کر کے یہ باطل شکن انعامی چیلنج دیا۔کہ جو صاحب منجملہ توابع سوامی دیانند سرسوتی صاحب سوال ہذا کا جواب دے کر ثابت کرے کہ ارواح ہے انت ہیں اور پر میشور کو ان کی تعداد معلوم نہیں۔تو میں اس کو مبلغ پانچ سو روپیہ انعام دوں گا۔اسلام کی پہلی فتح یہ مذہبی دنیامیں آریہ سماج کے خلاف پہلا انعام تھا جو آپ نے پیش کیا جس نے آریہ کاج کیمپ میں کھلبلی مچادی اور لاہور آریہ سماج کے سیکرٹری لالہ جیون " د اس کو سوامی دیانند کی عمومی لیڈر شپ کے خلاف علم بغاوت بلند کرتے ہوئے نہایت بد حواسی میں یہ اعلان کر کے پیچھا چھڑانا پڑا کہ یہ مسئلہ آریہ سماج کے اصولوں میں داخل نہیں ہے۔اگر کوئی ممبر آریہ سماج کا اس کا دعویدار ہو تو اس سے سوال کرنا چاہئے اور اسی کو جواب دینا لازم ہے۔چونکہ اس