تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 148 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 148

تاریخ احمدیت جلدا والد ماجد کا وصال اور کثرت مکالمات ایک جرم تھا۔اور ایسے جرم کی سزا میں ڈاک خانہ کے قوانین کی رو سے پانچ سوروپیہ جرمانہ یا چھ ماہ تک قید تھی جس کی حضرت اقدس کو کچھ بھی اطلاع نہ تھی۔لیکن رلیا رام نے مخبر بن کر ڈاک کے افسروں کے ذریعہ سے حضور پر عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا۔اور قبل اس کے کہ حضور کو اس مقدمہ کے متعلق کچھ خبر ہو رویا میں اللہ تعالیٰ نے حضور پر ظاہر کیا کہ رلیا رام وکیل نے ایک سانپ میرے کاٹنے کے لئے مجھ کو بھیجا ہے اور میں نے مچھلی کی طرح مل کر واپس کر دیا ہے۔غرض اس جرم میں حضور گورداسپور میں طلب فرمائے گئے۔اور جن جن وکلاء سے مقدمہ کے لئے مشورہ لیا گیا انہوں نے یہی مشورہ دیا کہ جھوٹ کے بغیر اور کوئی راہ نجات نہیں۔اور یہ صلاح دی کہ اس طرح اظہار دے دیں کہ ہم نے پیکٹ میں خط نہیں ڈالا تھا، رلیا رام نے خود ڈال دیا ہو گا۔نیز بطور تسلی کہا کہ ایسا بیان کرنے سے شہادت پر فیصلہ ہو جائے گا اور دو چار جھوٹے گواہ دے کر بریت ہو جائے گی۔ورنہ صورت مقدمہ سخت مشکل ہے اور کوئی طریق رہائی نہیں۔مگر حضور نے سب ہی وکلاء کو جواب دیا۔کہ میں کسی حالت میں سچائی کو چھوڑنا نہیں چاہتا، جو ہو گا سو ہو گا۔چنانچہ شیخ علی احمد صاحب کی (جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس مقدمہ میں وکیل و پیرو کار تھے ) شہادت ہے کہ میں نے ہر چند چاہا کہ مرزا صاحب انکار کر دیں کہ یہ خط اس میں نہیں رکھا تھا۔میرے نزدیک اس کا کوئی ثبوت نہیں ہو سکتا تھا کہ وہ خط اس پیکٹ میں سے بر آمد ہوا۔اور اس کے متعلق شہادت قوی نہ تھی۔بوجہ اختلاف مذہب خود رلیا رام کی شہادت بھی آئینی لحاظ سے چنداں قابل پذیرائی نہ تھی۔میں جس قدر اصرار کرتا تھا اسی قدر مرزا صاحب انکار کرنے سے انکار کرتے تھے۔میں نے ان کو ہر چند ڈرایا کہ نتیجہ اچھا نہ ہو گا اور خواہ نخواہ ایک معزز خاندان پر فوجداری مقدمہ میں سزا پانے کا داغ لگ جائے گا مگر وہ میری بات نہ مانے اور میں نے یہ سمجھ کر کہ میری پیروی میں مقدمہ ہار گیا تو بڑی بد نامی خاندان کی طرف سے ہوگی۔اس لئے حضرت مرزا صاحب کے انکار نہ کرنے کے اصرار سے فائدہ اٹھا کر میں نے کہا کہ اگر آپ میری بات نہیں مانتے تو میں پیروی نہیں کرتا۔میرا خیال یہ تھا کہ مقدمہ میں سزا ہوگی اور الزام ان پر رہ جائے گا کہ وکیل کے مشورہ کے خلاف عمل کرنے سے ایسا ہوا۔میں اس طرح اپنی ناراضی کا اظہار کر کے پیش نہ ہوا اور میری غیر حاضری میں مقدمہ پیش ہو گیا۔بهر حال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک انگریز کی عدالت میں پیش ہوئے اور آپ کے مقابل ڈاک خانہ جات کا افسر سرکاری مدعی کی حیثیت سے حاضر ہوا۔اس وقت حج نے اپنے ہاتھ سے حضور کا بیان قلمبند کیا اور سب سے قبل حضور سے سوال کیا کہ کیا یہ خط آپ نے اپنے پیکٹ میں رکھ دیا تھا اور یہ خط اور پیکٹ تمہارا ہے ؟ حضور نے بلا توقف جواب دیا کہ یہ میرا ہی خط اور میرا ہی پیکٹ ہے