تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 147
تاریخ احمدیت جلدا والد ماجد کا وصال اور کثرت مکالمات گورداسپور سے آتے تو ان کے لئے پان لاتے۔اور ان کی زوجہ محترمہ (یعنی حضرت نانی جان مرز اغلام قادر صاحب مرحوم کے واسطے اچھا سا کھانا وغیرہ تیار کر کے بھیجا کرتی تھیں) ایک دفعہ جو حضرت نانی اماں نے شامی کباب ان کے لئے تیار کئے اور بھیجنے لگیں تو انہیں معلوم ہوا کہ وہ گورداسپور واپس چلے گئے ہیں۔چنانچہ انہوں نے نائن کے ہاتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو وہ کباب بھیجوا دیے اور اس کے بعد آپ ہر دو سرے تیسرے دن حضور کو کچھ کھانا وغیرہ بنا کر بھیج دیا کرتی تھیں اور حضور بڑی خوشی سے تناول فرمالیتے تھے۔حضرت نانی اماں کا بیان ہے کہ بعد میں جب اس بات کی اطلاع المیہ صاحبه مرزا غلام قادر صاحب کو ہوئی تو وہ بہت خفا ہوئیں۔کہ میں کیوں ان کو کھانا بھیجتی ہوں۔دراصل وہ اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سخت مخالف تھیں۔اور چونکہ گھر کا سارا انتظام انہی کے ہاتھ میں تھا اس لئے وہ ہر بات میں حضور کو تکلیف پہنچاتی تھیں۔اس وقت پورے خاندان میں صرف حضرت اقدس کی ممانی (صاحبزادہ مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم کی نانی) کو آپ سے محبت تھی۔باقی سب مخالف تھے۔اور آپ کو بد دعائیں دیتے اور برا بھلا کہتے رہتے تھے المختصر یہ زمانہ نہایت درجہ حسرت اور تنگی کا زمانہ تھا۔لیکن حضرت اقدس نے اسے ایک خدائی آزمائش سمجھتے اور انعام و برکت قرار دیتے ہوئے بے حد صبر و تحمل سے گزارا۔آپ مسلسل سات سال تک مختلف مظالم کا تختہ مشق بنے اور زبان پر حرف شکایت نہ لائے۔بد دعا ئیں سنیں اور دعاؤں میں مصروف رہے اور صبرو تحمل کا وہ کامیاب نمونہ دکھایا کہ رحمت دو عالم حضرت رسول اکرم ﷺ کے زمانہ کی یاد تازہ ہو گئی۔حضرت والد ماجد مرحوم کے انتقال حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے خلاف پہلا مقدمہ کے دوسرے سال ۱۸۷۷ء میں آپ کے خلاف ایک عیسائی رلیا رام نے مقدمہ دائر کیا جو آپ کی زندگی میں آپ کے خلاف پہلا مقدمہ تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام قریباً پانچ سال سے تبلیغ اسلام کی غرض سے قلمی جنگ کر رہے تھے کہ اس سلسلہ میں حضور نے اسلام کی تائید میں امرت سر کے ایک پریس کو اشاعت کی غرض سے پیکٹ میں ایک مضمون ارسال فرمایا اور اس میں ایک خط بھی رکھ دیا۔چونکہ خط میں ایسے الفاظ تھے جن میں اسلام کی تائید اور دوسرے مذاہب کے بطلان کی طرف اشارہ تھا اور مضمون کے چھاپ دینے کے لئے تاکید بھی تھی۔اس لئے پریس کے عیسائی مالک رلیا رام وکیل جو امرت سر کے عیسائی مشن کی روح رواں سمجھا جاتا تھا اور مسیحیت کو اعلیٰ طبقہ تک پہنچانے میں اسے گہرا عمل و دخل تھا سخت مشتعل ہوا چنانچہ اسے اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کا ایک موقعہ ہاتھ آگیا۔کسی علیحدہ خط کا پیکٹ میں رکھنا قانوناً [PA]