تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 139 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 139

تاریخ احمدیت جلدا ۱۳۸ والد ماجد کا وصال اور کثرت مکالمات ایک نوکر پیر دبانے لگا کہ اتنے میں تھوڑی سی غنودگی ہو کر مجھے الہام ہو او السَّمَاءِ وَ الطَّارِق یعنی تم ہے آسان کی جو قضا و قدر کا منبع ہے اور قسم ہے اس حادثہ کی جو آج آفتاب کے غروب کے بعد نازل ہو گا اور مجھے سمجھایا گیا کہ یہ الہام بطور عزا پر سی خدا تعالٰی کی طرف سے ہے۔اور حادثہ یہ ہے کہ آج ہی تمہارا والد آفتاب کے غروب کے بعد فوت ہو جائے گا۔سبحان اللہ کیا شان خداوند عظیم ہے کہ ایک شخص جو اپنی عمر ضائع ہونے پر حسرت کرتا ہو ا فوت ہوا ہے اس کی وفات کو عزا پر سی کے طور پر بیان فرماتا ہے۔اس بات سے اکثر لوگ تعجب کریں گے کہ خدا تعالٰی کی عزا پرسی کیا معنی رکھتی ہے۔مگر یاد رہے کہ حضرت عزو جل شانہ جب کسی کو نظر رحمت سے دیکھتا ہے تو ایک دوست کی طرح ایسے معاملات اس سے کرتا ہے۔چنانچہ خدا تعالٰی کا ہنسنا بھی حدیثوں میں آیا ہے ان ہی معنوں کے لحاظ سے "< والد ماجد کا انتقال چنانچہ وَالسَّمَاءِ وَ الطَّارِقِ کی آسمانی خبر کے مطابق آپ کے والد ماجد کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اور وہ اپنی وصیت کے مطابق مسجد اقصیٰ کے صحن میں دفن کئے گئے۔وفات کے وقت ان کی عمر اسی پچاسی سال کے قریب تھی۔حلیہ مبارک عادات و اخلاق حضرت اقدس کے والد بزرگوار حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب نہایت وجیہہ اور دلکش شکل و صورت رکھنے والے بزرگ تھے۔قد در از رنگ گندمی، آنکھیں موٹی اور سرخ ریش مبارک دراز اور چہرے مرے سے شماری سطوت و جلال ٹپکتا تھا۔دب کر صلح کرنے یا کسی بڑے سے بڑے حاکم سے مرعوب ہو کر خوشامد کرنے یا اس کے سامنے سر جھکانے کو اپنی شاندار خاندانی عظمت و وجاہت کی توہین سمجھتے تھے یہی وجہ ہے کہ انہوں نے سکھ اور انگریز دونوں کے زمانہ اقتدار میں بھاری نقصانات برداشت کئے مہاراجہ رنجیت سنگھ نے ان کے اب وجد کی پوری ریاست ضبط کرلی اور صرف چند دیہات واپس کئے اور انگریزی حکومت نے تو باقی ماندہ دیہات بھی ضبط کرلئے اور ان کے ذرائع آمد بالکل محدود ہو کے رہ گئے۔لیکن بہر نوع انہوں نے کسی دور میں بھی اپنی خاندانی روایات پر آنچ نہیں آنے دی۔ایک دفعہ بٹالہ کے راجہ تیجا سنگھ بیمار ہوئے۔ان کو کار بنکل کی قسم کا ایک پھوڑا تھا۔بہت معالجات کئے گئے کوئی صورت فائدہ کی نہ ہوئی آخر ان کی طرف رجوع کیا گیا اور وہ اللہ تعالٰی کے فضل سے شفایاب ہو گئے۔راجہ صاحب نے بطور ہدیہ ایک کثیر رقم اور خلعت کے علاوہ ان کی آبائی ریاست کے رد گاؤں شتاب کوٹ اور حسن پوریا حسن آباد بطور جاگیر پیش کرنا چاہے۔مگر آپ نے حقارت آمیز لہجہ میں انکار کرتے