تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 131
تاریخ احمدیت جلدا علمی جہاد کا آغاز کے لئے کچھ اضطرار ہو وہ فوت ہو جائے۔اس سے مجھے یہ بھی ثبوت ملا کہ انسان کسی حد تک فاقہ کشی میں ترقی کر سکتا ہے۔اور جب تک کسی کا جسم ایسا سخت کش نہ ہو جائے میرا یقین ہے کہ ایسا تنعم پسند روحانی منازل کے لائق نہیں ہو سکتا۔لیکن میں ہر ایک کو یہ صلاح نہیں دیتا کہ ایسا کرے اور نہ میں نے اپنی مرضی سے ایسا کیا۔یاد رہے کہ میں نے کشف صریح کے ذریعہ سے خدا تعالٰی سے اطلاع پا کر جسمانی محنت کشی کا حصہ آٹھ یا نو ماہ تک لیا اور بھوک اور پیاس کا مزہ چکھا اور پھر اس طریق کو علی الدوام بجالانا چھوڑ دیا اور کبھی کبھی اس کو اختیار بھی کیا " حضرت میر ناصر نواب صاحب کی قادیان ان دنوں دلی کے مشہور عالی قدر سادات خاندان میں پہلی بار آمد اور تعلقات کا آغاز کے چشم و چراغ ، شہرہ آفاق صوفی مرتاض خواجہ میر درد رحمتہ اللہ علیہ کے نبیرہ اور ان کے روحانی کمالات کی یادگار ایک بزرگ جن کا اسم گرامی میر ناصر نواب تھا، امرت سر سے منتقل ہونے کے بعد قادیان کے نزدیک موضع مثلہ میں نہر کے اوور سیر کی حیثیت سے متعین تھے۔انہیں تبلیغ اسلام کا بڑا جوش تھا۔ان کے دست مبارک پر اکتوبر ۱۸۷۴ء کو سٹھیالی کا ایک ہندو بنسی دھر حلقہ بگوش اسلام ہوا جس کا نام عبد الحق رکھا گیا۔ان کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان میں سب سے پہلے حضور کے بڑے بھائی مرزا غلام قادر صاحب مرحوم سے تعارف ہوا۔ایک دفعہ حضرت میر صاحب کی زوجہ محترمہ کی طبیعت علیل ہو گئی تو مرزا غلام قادر صاحب نے انہیں اپنے والد حضرت مرز اغلام مرتضی صاحب سے طبی مشورہ کے لئے قادیان جانے کی تحریک کی۔چنانچہ حضرت میر صاحب پہلی مرتبہ قادیان آئے۔یہ انداز ۱۸۷۶ء کے اوائل کا واقعہ ہے۔حضرت میر ناصر نواب صاحب کے حرم محترم کی روایت ہے کہ مجھے ڈولے میں بٹھا کر قادیان لائے۔جب میں یہاں آئی تو نیچے کی منزل میں مرزا غلام قادر صاحب مجلس لگائے بیٹھے تھے اور کچھ لوگ ان کے پاس بیٹھے تھے اور ایک نیچے کی کو ٹھری میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک کھڑکی کے پاس بیٹھے قرآن شریف پڑھ رہے تھے۔میں نے گھر والیوں سے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا کہ یہ مرزا صاحب کا چھوٹا لڑکا ہے اور بالکل ولی آدمی ہے قرآن ہی پڑھتا رہتا ہے۔اوپر کی منزل میں حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب تھے۔انہوں نے میری نبض دیکھی اور ایک نسخہ لکھ دیا۔اور پھر میر صاحب کے ساتھ اپنے دلی جانے اور وہاں حکیم محمد شریف صاحب سے علم طب سیکھنے کا ذکر کرتے رہے۔انہوں نے حضرت میر صاحب کو قادیان میں اور ٹھرنے کے لئے کہا مگر ہم نہیں ٹھر سکے۔کیونکہ (ام المومنین) نصرت جہاں بیگم کو اکیلا چھوڑ آئے تھے حضرت میر صاحب اور ان کی اہلیہ محترمہ کی قادیان میں یہ پہلی آمد تھی جو قریباً ۱۸۷۶ء