تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 109
تاریخ احمدیت جلدا قادیان میں دینی مصروفیات باب ہفتم سیالکوٹ کے بعد قادیان میں حضرت اقدس کی دینی مصروفیات (۱۸۷۷ تا ۱۸۷۱) سیالکوٹ سے واپسی کے بعد حضرت اقدس" کو آپ کے والد بزرگوار نے پھر زمینداری کے کاموں اور مقدمات وغیرہ میں لگا دیا اور یہ سلسلہ کم و بیش آٹھ نو برس تک کسی نہ کسی صورت میں جاری رہا۔یہاں تک ان کی وفات (۱۸۷۶ء) کے بعد قریباً منقطع ہو گیا مقدمات کے اس دوسرے دور میں بھی بعض آسمانی نشانات کا ظہور ہوا۔مثلاً (۱۸۶۸ء) ہی کا واقعہ ہے کہ ایک مقدمہ کے متعلق (جو آپ کے والد بزرگوار کی طرف سے اپنے زمینداری حقوق کے متعلق دائر کیا گیا تھا) بذریعہ خواب ڈگری ہونے کی خبر دی گئی جو غیر معمولی رنگ میں پوری ہوئی۔اسی طرح ایک مقدمہ میں دعا کے بعد آپ کو ایک حفیظ نامی لڑکا کھایا گیا۔چنانچہ وہ مقدمہ رفع دفع ہو گیا۔وغیرہ حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب مرحوم نے جب ابتداء مقدمات میں قدم رکھا تو اس وقت انہیں اپنے مقاصد میں کامیابی کا قوی امکان ہو سکتا تھا۔لیکن اب جو ایک عرصہ تک ان مقدمات کی کشمکش میں الجھنے کے بعد جب انہیں صریح ناکامی ہوئی اور جائیداد بھی عمارت ہوتی دکھائی دینے لگی تو نہ صرف بشاشت کا پہلا سا رنگ نہ رہا بلکہ اس کے برعکس وہ سخت غمگین رہنے لگے۔اپنی رفیقہ حیات کے ہمیشہ کے لئے جدا ہونے کا غم مزید بر آن تھا۔اقتصادی اور معاشرتی صدمات میں چور چور تھے۔اور ان کی گذشتہ کوششوں کے بھیانک اور تلخ نتائج ان کے سامنے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سیالکوٹ سے واپس آکر جہاں گذشتہ دستور کے مطابق قرآن و حدیث کا خود مطالعہ جاری رکھا وہاں آپ اس مطالعہ میں اپنے والد بزرگوار کو شریک کرتے ہوئے انہیں بھی قرآن و حدیث سنانا شروع کر یا۔باپ اور بیٹے کی یہ قال اللہ اور قال الرسول کے وعظ و تلقین کی عجیب مجلسیں کتنی پر کیف ہوتی ہوں گی قلم ان کا نظارہ کھینچنے سے قاصر ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ان کوششوں اور