تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 103 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 103

تاریخ احمدیت جلدا ۱۰۲ قیام سیالکوٹ اور تبلیغ اسلام تھا۔ان کی دور اندیشی اور معاملہ فہمی مشہور تھی۔وہ حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب ہمیں لے کے لئے بہترین مشیر اور غمگسار تھیں اور آپ بھی اپنی ہیبت اور شوکت و جلال کے باوجود خانہ داری کے معاملات میں ان کی خلاف مرضی کوئی بات نہیں کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو چونکہ ابتداء ہی سے خلوت گزینی ، ذکر الہی اور مطالعہ سے ہر لحہ شغف تھا اور اپنے والد صاحب کے دنیوی مشاغل اور دوسرے کا روبار میں حصہ لینے سے طبعا متنفر تھے اس لئے گھر میں ملاں "کہلاتے تھے۔لیکن آپ کی والدہ محترمہ کو آپ سے بڑی محبت تھی۔وہ آپ کی نیکی ، تقوی شعاری، پاک زندگی اور سعادت مندی پر سو جان سے قربان ہو جاتیں اور آپ کی ہر قسم کی ضرورتوں کا خاص خیال رکھتی تھیں۔چنانچہ ان کی زندگی میں آپ کو کبھی کچھ کہنے کی نوبت نہیں آئی۔کیونکہ وہ ابتداء ہی سے جانتی تھیں کہ آپ اپنے گھر کے دوسرے افراد کے مقابل بالکل درویش طبع ہیں اور اپنی ضروریات کا کسی سے اظہار کرنا آپ کو ہرگز پسند نہیں۔جب تک زندہ رہیں آپ کے لئے (ظاہری لحاظ سے) سپر بنی رہیں۔والد خفگی کا اظہار کرتے تو ماں کی مامتا فرط محبت سے جوش میں آجاتی۔حضور جب والد بزرگوار کے اصرار پر سیالکوٹ آگئے تو باقاعدہ آپ کے لئے کپڑے وغیرہ بنا کر بھجواتی رہیں۔غرضکہ ان کا وجود آپ کے لئے سایہ رحمت تھا۔دوسری طرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی آپ سے بے پناہ محبت تھی۔جب کبھی ان کا ذکر فرماتے آپ کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو جاتے تھے۔شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کا چشم دید بیان ہے کہ حضور علیہ السلام ایک مرتبہ میر کی غرض سے اپنے پرانے خاندانی قبرستان کی طرف نکل گئے۔راستہ سے ہٹ کر آپ ایک جوش کے ساتھ اپنی والدہ صاحبہ کے مزار پر آئے اور اپنے خدام سمیت ایک لمبی دعا فرمائی۔حضور جب کبھی حضرت والدہ صاحبہ کا ذکر فرماتے تو آپ چشم پر آب ہو جاتے حضرت والدہ صاحبہ نہایت خدا رسیدہ اور بزرگ خاتون تھیں۔ان کی ایک کرامت حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہ بیان فرمایا کرتے تھے کہ ” جب بڑے مرزا صاحب (یعنی حضرت کے والد - ناقل) کشمیر میں ملازم تھے تو کئی دفعہ ایسا ہوا کہ ہماری والدہ نے کہا کہ آج میرا دل کہتا ہے کہ کشمیر سے کچھ آئے گا تو اسی دن کشمیر سے آدمی آگیا اور بعض اوقات تو ایسا ہوا کہ ادھر والدہ صاحبہ نے یہ کہا اور ادھر دروازہ پر کسی نے دستک دی۔دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ کشمیر سے آدمی آیا ہے"۔حضرت مریم صدیقہ سے معنوی مشابہت حضرت سیدہ چراغ بی بی صاحبہ رضی اللہ عنہا کا روحانی مقام تو اس سے ظاہر ہے کہ آپ کے بطن مبارک سے مسیح محمدی ایسا عظیم الشان وجود پیدا ہوا جس سے آفاق عالم روشن ہو گئے