تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 99 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 99

تاریخ احمدیت جلد ۹۸ قیام پالکوٹ اور تاریخ اسلام علم کو ذریعہ اور آلہ ناجائز کاموں کا بناتے ہیں۔میں اس آیت کی وعید سے بہت ڈرتا ہوں اُحْشُرُوا الَّذِينَ ظَلَمُوا وَازْوَاجَهُمُ اس جواب سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کیسے نیک باطن تھے۔ایک مرتبہ کسی نے پوچھا کہ انبیاء کو احتلام کیوں نہیں ہوتا؟ آپ نے فرمایا کہ چونکہ انبیاء سوتے جاگتے پاکیزہ خیالوں کے سوا کچھ نہیں رکھتے اور ناپاک خیالوں کو دل میں آنے نہیں دیتے اس واسطے ان کو خواب میں بھی احتلام نہیں ہوتا۔ایک مرتبہ لباس کے بارے میں ذکر ہو رہا تھا۔ایک کہتا کہ بہت کھلی اور وسیع موہری کا پاجامہ اچھا ہوتا ہے جیسا ہندوستانی اکثر پہنتے ہیں۔دوسرے نے کہا کہ تنگ موہری کا پاجامہ بہت اچھا ہوتا ہے۔مرزا صاحب نے فرمایا کہ : بلحاظ ستر عورت تنگ موہری کا پاجامہ بہت اچھا اور افضل ہے اور اس میں پردہ زیادہ ہے۔کیونکہ اس کی تنگ موہری کے باعث زمین سے بھی ستر عورت ہو جاتا ہے۔سب نے اس کو پسند کیا۔آخر مرزا صاحب نوکری سے دل برداشتہ ہو کر استعفیٰ دے کر ۱۸۶۸ء میں یہاں سے تشریف لے گئے۔ایک دفعہ ۱۸۷۷ء میں آپ تشریف لائے اور لالہ بھیم سین صاحب کے مکان پر قیام فرمایا اور بتقریب دعوت حکیم میر حسام الدین صاحب کے مکان پر تشریف لائے۔ای سال سرسید احمد خان صاحب غفرلہ نے قرآن شریف کی تغییر شروع کی تھی۔تین رکوع کی تفسیر یہاں میرے پاس آچکی تھی۔جب میں اور شیخ اللہ دار صاحب مرزا صاحب کی ملاقات کے لئے لالہ ھیم سین صاحب کے مکان پر گئے تو اثنائے گفتگو میں سرسید صاحب کا ذکر شروع ہوا۔اتنے میں تفسیر کا ذکر بھی آگیا۔راقم نے کہا کہ تین رکوعوں کی تفسیر آئی جس میں دعا اور نزول وحی کی بحث آگئی ہے۔فرمایا کل جب آپ آدیں تو تفسیر لیتے آنویں ، جب دوسرے دن وہاں گئے تو تفسیر کے دونوں مقام آپ نے سنے اور سن کر خوش نہ ہوئے اور تفسیر کو پسند نہ کیا۔اس زمانہ میں مرزا صاحب کی عمر راقم کے قیاس میں تخمینا ۲۴ سے کم اور ۲۸ سے زیادہ نہ تھی غرضکہ ۱۸۶۴ء میں آپ کی عمر ۲۸ سے متجاوز نہ تھی۔راقم میرحسن " ۵۴ حضرت مرزا صاحب پہلے محلہ کشمیریاں میں جو اس عاصی پر معاصی کے غریب خانہ دو سرابیان کے بہت قریب ہے عمرا نامی کشمیری کے مکان پر کرایہ پر رہا کرتے تھے کچھری سے جب تشریف لاتے تھے تو قرآن مجید کی تلاوت میں مصروف ہوتے تھے۔بیٹھ کر کھڑے ہو کر شملتے ہوئے تلاوت کرتے تھے اور زار زار رویا کرتے تھے۔ایسی خشوع اور خضوع سے تلاوت کرتے تھے کہ اس کی نظیر نہیں ملتی۔حسب عادت زمانہ - صاحب حاجات جیسے اہلکاروں کے پاس جاتے ہیں ان کی خدمت میں