تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 97 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 97

تاریخ احمدیت جلدا ۹۶ قیام سیالکوٹ اور تبلیغ اسلام چونکہ لالہ صاحب سلیم طبع اور لیاقت زبان فارسی اور ذہن رسا رکھتے تھے اس سبب سے بھی مرزا صاحب کو علم دوست ہونے کے باعث ان سے بہت محبت تھی۔مرزا صاحب کی علمی لیاقت سے کچھری والے آگاہ نہ تھے مگر چونکہ اسی سال کے اوائل گرما میں ایک عرب نوجوان محمد صالح نام شہر میں وارد ہوئے اور ان پر جاسوسی کا شبہ ہوا تو ڈپٹی کمشنر صاحب نے (جن کا نام پر کسن تھا اور پھر وہ آخر میں کمشنر راولپنڈی کی کمشنری کے ہو گئے تھے) محمد صالح کو اپنے محکمہ میں بغرض تفتیش حالات طلب کیا۔ترجمان کی ضرورت تھی۔مرزا صاحب چونکہ عربی میں کامل استعداد رکھتے تھے اور عربی زبان میں تحریر و تقریر بخوبی کر سکتے تھے۔اس واسطے مرزا صاحب کو بلا کر حکم دیا کہ جو جو بات ہم کہیں عرب صاحب سے پوچھو اور جو جواب وہ دیں اردو میں ہمیں لکھواتے جاؤ۔مرزا صاحب نے اس کام کو کما حقہ ادا کیا اور آپ کی لیاقت لوگوں پر منکشف ہوئی۔اس زمانہ میں مولوی الہی بخش صاحب کی سعی سے جو چیف محرر مدارس تھے اب اس عہدہ کا نام ڈسٹرکٹ انسپکٹر مدارس ہے) کچھری کے ملازم منشیوں کے لئے ایک مدرسہ قائم ہوا کہ رات کو کچھری کے ملازم منشی انگریزی پڑھا کریں۔ڈاکٹر امیر شاہ صاحب جو اس وقت اسٹنٹ سرجن پیشنر ہیں استاد مقرر ہوئے۔مرزا صاحب نے بھی انگریزی شروع کی اور ایک دو کتابیں انگریزی کی پڑھیں۔مرزا صاحب کو اس زمانہ میں بھی مذہبی مباحثہ کا بہت شوق تھا۔چنانچہ پادری صاحبوں سے اکثر مباحثہ رہتا تھا۔ایک دفعہ پادری الائشہ صاحب (سے) جو دیسی عیسائی پادری تھے اور حاجی پورہ سے جانب جنوب کی کوٹھیوں میں ایک کو ٹھی میں رہا کرتے تھے مباحثہ ہوا۔پادری صاحب نے کہا کہ عیسوی مذہب قبول کرنے کے بغیر نجات نہیں ہو سکتی۔مرزا صاحب نے فرمایا نجات کی تعریف کیا ہے؟ اور نجات سے آپ کیا مراد رکھتے ہیں؟ مفصل بیان کیجئے۔پادری صاحب نے کچھ مفصل تقریر نہ کی اور مباحثہ ختم کر بیٹھے اور کہا میں اس قسم کی منطق نہیں پڑھا۔پادری بٹر صاحب ایم اے سے جو بڑے فاضل اور محقق تھے مرزا صاحب کا مباحثہ بہت دفعہ ہوا۔یہ صاحب موضع گوہد پور کے قریب رہتے تھے۔ایک دفعہ پادری صاحب فرماتے تھے کہ مسیح کو بے باپ پیدا کرنے میں یہ سر تھا کہ وہ کنواری مریم کے بطن سے پیدا ہوئے اور آدم کی شرکت سے جو گنہ گار تھا بری رہے۔مرزا صاحب نے فرمایا کہ مریم بھی تو آدم کی نسل سے ہے پھر آدم کی شرکت سے بریت کیسے اور علاوہ ازیں عورت ہی نے تو آدم کو ترغیب دی جس سے آدم نے درخت ممنوع کا پھل کھایا اور گنہ گار ہوا۔پس چاہئے تھا کہ مسیح عورت کی شرکت سے بھی بری رہتے اس پر پادری صاحب خاموش ہو گئے۔