تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 93
تاریخ احمدیت جلدا قیام سیالکوٹ اور تبلیغ اسلام حکومت کا فولادی پنجہ اس کی امداد کر رہا ہو تو یہی تبلیغی اور خالص مذہبی خدمت کس قدرسیاسی اور کتنی زیادہ سخت اور صبر آزما بن جاتی ہے۔بلاشبہ رد عیسائیت کے سلسلہ میں ہر ایک مناظرہ ہر ایک تبلیغ ہر ایک تصنیف اغراض حکومت سے سراسر بغاوت تھی"۔سیالکوٹ میں حضرت مسیح موعود اس زمانہ میں مسیحی مشن چونکہ نی نیا پنجاب میں کا عیسائیت کے خلاف تبلیغی محاذ آیا تھا اس لئے مسلمان اس کے علم کلام اور دلائل سے اکثر نا آشنا تھے اور عیسائیت سے اکثر شکست کھا جاتے تھے۔لیکن اس کے بر عکس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایسے مرد مجاہد سے جس مسیحی کی گفتگو ہوئی اسے خاموش ہونا پڑا۔آپ صحیح معنوں میں سیالکوٹ کی پوری مذہبی فضاء پر چھائے ہوئے تھے اور عیسائی پادری آپ کے مدلل اور مسکت مباحثوں سے بالکل لاجواب ہو جاتے تھے۔آپ کی بیٹھک کے قریب ہی ایک بوڑھے دکاندار فضل دین کی دکان تھی جہاں شام کو شہر کے اچھے اچھے سمجھدار لوگوں کا ایک ہجوم سا رہتا تھا۔گاہے گاہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی تشریف لاتے اور مشن سکول کے ہیڈ ماسٹر نصر اللہ نامی عیسائی سے مذہبی امور پر معلومات افزاء گفتگو فرماتے۔ان دنوں حاجی پورہ میں ایک دیسی پادری الائشہ صاحب بھی ایک کو ٹھی میں رہتے تھے۔ایک دفعہ ان سے آپ کا ایک مختصر سا مگر فیصلہ کن مباحثہ بھی ہوا۔پادری صاحب نے مباحثہ کا آغاز کرتے ہوئے دعوی کیا کہ عیسائیت قبول کئے بغیر نجات کا حصول ممکن نہیں۔حضرت اقدس نے جرح میں صرف یہ فرمایا کہ نجات کی مفصل تعریف بیان کیجئے۔آپ کا بس اسی قدر فرمانا تھا کہ وہ صاحب دم بخودرہ گئے اور یہ کہتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے کہ ” میں اس قسم کی منطق نہیں پڑھا"۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا سیالکوٹ میں جن نادری بٹلر سے تبادلہ خیالات پادریوں سے مذہبی تبادلہ خیالات کا سلسلہ جاری رہتا تھا ان میں پادری بٹر ایم اے ممتاز تھے۔پادری بنگر سکاچ مشن کے بڑے نامی گرامی اور فاضل پادری تھے۔ایک دفعہ حضرت اقدس سے ان کی اتفاقاً ملاقات ہو گئی۔اثنائے گفتگو میں بہت کچھ مذہبی گفتگو ہوتی رہی۔آپ کی تقریر اور دلائل نے پادری صاحب کے دل میں ایسا گھر کر لیا کہ ان کے دل میں آپ کی باتیں سننے کا بہت شوق پیدا ہو گیا۔اکثر ایسا ہوتا کہ پادری صاحب دفتر کے آخری وقت میں حضور کی خدمت میں آجاتے اور پھر آپ سے باتیں کرتے کرتے آپ کی فرودگاہ تک پہنچ جاتے اور بڑی خوشی سے اس چھوٹے سے مکان میں جو عیسائیوں کی خوش منظر اور عالی شان کو ٹھیوں کے مقابلہ میں ایک جھونپڑا سا تھا بیٹھے رہتے اور بڑی توجہ اور محویت و عقیدت سے باتیں سنا کرتے اور اپنی طرز معاشرت